رسائی کے لنکس

بِل کی حمایت میں 62 اور مخالفت میں 38 ووٹ پڑے، جس سے ’فاسٹ ٹریک‘ تجارتی مذاکرات کو تیزی سے تکمیل تک پہنچانے کے سلسلے میں صدر اوباما کو اختیار مل گیا، جو ’ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ (ٹی پی پی) ٹریڈ ڈیل‘ کو عملی شکل دینے کے خواہاں ہیں

ایشیائی ممالک کے ساتھ صدر براک اوباما کی مجوزہ فخریہ تجارتی پالیسی جمعرات کو امریکی سینیٹ میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ ووٹنگ کے مرحلے میں، ایوان میں سخت تگ و دو دیکھی گئی، جس کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ وائٹ ہاؤس کے لیےکانگریس میں تجارتی سمجھوتوں کے لیے درکار حمایت کا حصول کامیابی کے قریب ہے۔

بِل کی حمایت میں 62 اور مخالفت میں 38 ووٹ پڑے، جس سے ’فاسٹ ٹریک‘ تجارتی مذاکرات کو تیزی سے تکمیل تک پہنچانے کے سلسلے میں صدر اوباما کو اختیار مل گیا، جو ’ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ (ٹی پی پی) ٹریڈ ڈیل‘ کو عملی شکل دینے کے خواہاں ہیں۔ چین کی معیشت پر مبنی قوت کے مظاہرے کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں، ٹی ٹی پی امریکی کاوشوں کی غماز ہے۔

سینیٹ میں ووٹنگ کے دوسرے مرحلے کے دوران، ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے 44 ارکان میں سے 13 نے بِل کے حق میں ووٹ دیا۔ ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے سرکردہ سینیٹروں کے مطابق، کچھ ڈیموکریٹ نے ’فاسٹ ٹریک‘ تجارتی معاہدے طے کرنے کے حق میں اُس وقت ووٹ دیا جب ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے، سینیٹ میں اکثریتی قائد، مِچ مکونیل نے اُن کو یقین دلایا کہ اگلے ماہ اُس مجوزہ بِل کے حق میں ووٹ دیں گے، جس کا مقصد ’ایکسپورٹ امپورٹ بینک‘ کے چارٹر کی از سر نو منظوری دینا ہے۔

بینک کے چارٹر کی میعاد جون کے اواخر تک ختم ہوجائے گی۔

ریپبلیکن پارٹی کے 54 میں سے 49 ارکان نے بِل کی حمایت کی، جس کے باعث قانون سازی کی منظوری کے لیے 100 ارکان کے ایوان میں درکار 60 ووٹوں سے کہیں زیادہ ووٹ ملے۔

اب بِل میں ترامیم کے مرحلے میں، سینیٹر حمایت کے حصول کی کوششیں کریں گے۔ اگر تمام سینیٹروں کے درمیان ضروری تعاون پر رضامندی حاصل ہوجاتی ہے، تو جمعرات کی رات اس پر ووٹنگ ہو سکتی ہے، جس میں منظوری کے لیے 51 ووٹوں کی سادہ اکثریت درکار ہے۔

’فاسٹ ٹریک‘ تجارتی معاہدے کے تحت، کانگریس ’ٹی پی پی‘ کی طرح کے تجارتی سمجھوتوں کو منظور یا مسترد کر سکتا ہے، جس معالے پر جاپان سے لے کر چِلی تک کے 11 دیگر ممالک کے ساتھ معاہدے ہوں گے۔ تاہم، وہ اُن کے مشتملات میں ترامیم کے اہل نہیں ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG