رسائی کے لنکس

بچوں کے جنسی استحصال کو جرم قرار دینے کا بل سینیٹ سے منظور

  • عشرت سلیم

پاکستان کا ایوان بالا (فائل فوٹو)

پاکستان کا ایوان بالا (فائل فوٹو)

بچوں پر مبنی جنسی مواد کی تیاری کا اس سے قبل ملکی قانون میں کہیں ذکر نہیں تھا، اسے بھی بل میں جرم قرار دیا گیا ہے اور اس کے لیے سات سال قید اور 7 لاکھ جرمانے تک کی سزا رکھی گئی ہے۔

پاکستان کے ایوان بالا "سینیٹ" نے تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری میں ترامیم کا ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت بچوں پر جنسی حملوں اور جنسی استحصال، بچوں پر مبنی فحش مواد کی تیاری اور ترویج، اور اندرون ملک ان کی 'تجارت' کو جرم قرار دیا گیا ہے۔

بچوں پر مبنی جنسی مواد کی تیاری کا اس سے قبل ملکی قانون میں کہیں ذکر نہیں تھا، جسے اس بل میں جرم قرار دیا گیا ہے اور اس کے لیے سات سال قید اور سات لاکھ تک جرمانے کی سزا رکھی گئی ہے۔

سینیٹ سے منظوری کے بعد اب اس بل کو صدر پاکستان کے پاس دستخط کے لیے بھیجا جائے گا جس کے بعد یہ ملک بھر میں نافذ ہو جائے گا۔

گزشتہ سال پنجاب کے ضلع قصور میں ایک گاؤں میں بچوں سے جنسی زیادتی کا ایک بڑا سکینڈل سامنے آیا تھا اور معلوم ہوا تھا کہ بچوں پر مبنی سینکڑوں جنسی وڈیوز کو بنا کر پھیلایا گیا ہے۔

اس سلسلے میں 20 افراد کو گرفتار کیا گیا مگر موجودہ قانون کے مطابق صرف جنسی بدفعلی اور زیادتی جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔ مگر ترمیمی بل منظور ہونے کے بعد اب اس طرح کا مواد بنانے اور پھیلانے والے مجرموں کو بھی سزا دی جا سکے گی۔

اسی طرح ملک کے اندر بچوں کی خریدو فروخت کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل صرف ملک سے باہر لے جا کر بچے فروخت کرنے والوں کو مجرم تصور کیا جاتا تھا۔

اس بل میں تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری کی متعدد شقوں میں ترمیم کی گئی جبکہ کچھ نئی شقیں شامل کی گئی ہیں جن کے تحت بچوں کو جنسی افعال پر آمادہ کرنے یا جنسی مواد دکھانے کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور وکیل ضیا اعوان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ بہت جامع قانون ہے جس کے تحت نئے قسم کے جرائم مثلاً سائبر کرائم اور جدید آلات مثلاً موبائل فون سے فحش مواد کی تیاری اور ترویج کو خصوصی طور پر جرائم کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ملک میں بچوں کے حق میں کچھ قوانین موجود ہیں مگر ایسے جرائم کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ قانون میں کی گئی ترامیم کو نافذ کرنے کے لیے بھی سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔

’’نفاذ کا طریقہ کار موجود نہیں، اس کے لیے سپورٹ میکنزم موجود نہیں، شیلٹر نہیں ہیں، کاؤنسلنگ نہیں ہے، لیگل ایڈ نہیں ہے۔ تو اس طرح کی بہت ساری چیزیں ہیں جو دستیاب نہیں۔ یہ قانون آنے کے بعد آگے جو دیکھنا ہے وہ یہ ہے کہ صدر اور وزیر اعظم سے لے کر گورنر اور وزرائے اعلیٰ سب اب بات کی ذمہ داری محسوس کریں اور بچوں کے خلاف جرائم کو بہت قریب سے دیکھیں تاکہ اس میں سیاسی عزم نظر آئے۔‘‘

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئر پرسن نسرین جلیل نے کہا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے کی گئی قانون سازی ان وعدوں کو پورا کرے گی جو پاکستان نے اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کے ساتھ کر رکھے ہیں۔

’’یہ شروعات ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ حکومت کی یقیناً کوشش ہو گی کہ پالیسی کی سطح پر بھی ایسی چیزیں بنا سکے جن سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ (یہ بل تو لاگو ہو اپنی جگہ) مگر ایسے واقعات ہی نہ ہو جن میں بچوں کو استعمال نہ کیا جا سکے۔‘‘

گزشتہ ماہ پاکستان کے وفاقی عہدیداروں نے انسانی حقوق کے متعلق ایک قومی لائحہ عمل کا اعلان کیا تھا جس کے تحت کئی دیگر اقدامات کے علاوہ انسانی حقوق کی قومی پالیسی کی تشکیل، متاثرین کو مفت قانونی مدد کی فراہمی، عورتوں کے تحفظ کے مراکز کا قیام اور بچوں کے لیے ایک قومی کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG