رسائی کے لنکس

پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی ایک خصوصی کمیٹی نے ملک بھر سے خواجہ سرا برادری کے نمائندوں کو دعوت دی ہے کہ وہ کمیٹی میں آ کر ان کو درپیش مسائل سے متعلق کمیٹی کے ارکان کو آگاہ کریں۔

پاکستان میں خواجہ سرا برادری کو نا صرف منفی سماجی رویوں کی وجہ سے کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ان کے خلاف تشدد کے واقعات بھی آئے روز رونما ہوتے رہتے ہیں۔

ان واقعات کے خلاف خواجہ سرا برادری کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی آواز بلند کرتی رہتی ہیں۔ تاہم ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے کی گونج اب ملک کے منتخب ایوانوں میں بھی سنائی دے رہی ہے۔

پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی ایک خصوصی کمیٹی نے ملک بھر سے خواجہ سرا برادری کے نمائندوں کو دعوت دی ہے کہ وہ کمیٹی میں آ کر ان کو درپیش مسائل سے متعلق کمیٹی کے ارکان کو آگاہ کریں۔

اس بات کا فیصلہ ایوان بالا کی معاشرے کے محروم طبقات سے متعلق کمیٹی میں کیا گیا اور کمیٹی کے سامنے یہ معاملہ بھی اٹھایا گیا کہ خواجہ سراؤں کو بچپن ہی سے بنیادی حقوق کے حوالے سے امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسی ماحول میں وہ اپنی ساری زندگی بسر کر دیتے ہیں۔

ایوان بالا کی معاشرے کے محروم طبقات سے متعلق ایک خصوصی کمیٹی کے سربراہ اور حکمران جماعت کے سینیٹر نثار محمد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ملک کا آئین بغیر صنفی امتیاز کے ہر فرد کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ قوانین پر عمل درآمد مناسب طریقے سے نہیں ہو رہا ہے۔

"معاشرتی اور سماجی طور پر ہمارے سماج کا ان کے ساتھ رویہ ہے اور اس کے علاوہ ان کے معاملے پر قانون پر بھی عمل درآمد کی بات آتی ہے تو انہیں دیگر افراد کے طرح ان سے ان کے مطابق سلوک نہیں کیا جاتا ہے۔ "

انہوں نے کہا کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور وزارت قانون اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ بھی کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر خواجہ سراؤں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اپنی تجاویز دیں۔

خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن بندیا رانا نے ایوان بالا کی کمیٹی میں ان کے مسائل کو اٹھانے کے معاملے کو خوش آئند اقدام قرار دیا تاہم انہوں نے اس کے ساتھ ساتھ اپنے مسائل کے حل کے لیے حکومت سے عملی اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

" 2010 میں سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا جس میں مفت تعلیم، مفت صحت کی سہولت ، ملازمت میں کوٹا کا کہا گیا تھا ، اگر ہمیں آج بلا رہے ہیں ہم وہاں بھی جائیں گے لیکن کیا اس فیصلہ پر عمل درآمد ہوا ، کیا اس کے لیے کوئی قانون سازی ہوئی۔"

پاکستان میں خواجہ سراؤں کا شمار ملک کے سب سے محروم طبقات میں ہوتا ہے جنہیں نا صرف معاشرے کی منفی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ انہیں خاندانی جائیداد سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔ حالیہ سالوں میں ان کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے بلکہ کئی ایک واقعات میں انہیں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔

XS
SM
MD
LG