رسائی کے لنکس

نیٹو حملے کے خلاف سینیٹ کی متفقہ قرارداد

  • ج

مہمند ایجنسی میں پاکستانی چیک پوسٹوں پر نیٹو کے فضائی حملے میں 24 فوجی ہلاک ہوگئے تھے

مہمند ایجنسی میں پاکستانی چیک پوسٹوں پر نیٹو کے فضائی حملے میں 24 فوجی ہلاک ہوگئے تھے

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے مہمند ایجنسی میں نیٹو کے ’’بلا اشتعال‘‘ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے بیرونی جارحیت کے خلاف ’’ہر ممکن ذریعہ سے مزاحمت‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

کئی روز کے وقفے کے بعد سینیٹ کا اجلاس جمعہ کو جب دوبارہ شروع ہوا تو حسب توقع اراکین نے نیٹو کے فضائی حملے کی شدید مذمت اور اس المناک سانحے کے رد عمل میں حکومت پاکستان کے اقدامات کی مکمل حمایت کی۔

ایوان بالا کی اُمور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین سلیم سیف اللہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ نیٹو سپلائی کی بندش اور دیگر فیصلوں پر ثابت قدم رہے تاکہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے حوالے سے عوام میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کو ختم کرنے میں مدد ملے۔

’’یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ (بندش کا یہ سلسلہ) کتنے دنوں کے لیے ہوگا، 10 دن کے بعد دباؤ آئے گا وہاں سے حکم آئے گا اور یہ سب کچھ واپس ہو جائے گا۔ اب ایک موقف اختیار کیا ہے تو مہربانی کرکے اس کو ضرور چلائیں۔‘‘

ایوان میں تقاریر کرنے والے دیگر اراکین میں قائد حزب اختلاف عبدالغفور حیدری اور حکومت کی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رکن حاجی عدیل بھی شامل تھے۔

حاجی عدیل کا کہنا تھا کہ ایبٹ آباد میں القاعدہ کے مفرور رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف خفیہ امریکی آپریشن کے بعد فیصلہ کیا گیا تھا کہ مستقبل میں بیرونی جارحیت کا بھرپور انداز میں جواب دیا جائے گا لیکن مہمند ایجنسی میں پیش آنے والے واقعے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

ان تقاریر کے بعد عبدالغفور حیدری نے حالیہ نیٹو حملے کے خلاف ایوان میں ایک مذمتی قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

جمعہ کو سینیٹ کے اجلاس کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کے سینیئر رہمنا سینیٹر وسیم سجاد نے کہا کہ یہ قرار دار پاکستانی عوام میں پائے جانے والے شدید غم و غصے کی عکاس ہے۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ نیٹو حملے کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ ’’تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے دنوں ملکوں، بالخصوص امریکہ، کو اقدامات کرنا ہوں گے۔‘‘

وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت اور عوام کو پاکستان میں اس واقعے کی حساسیت کا احساس کرنا چاہیئے۔ ’’میرے خیال میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان کے عوام اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔‘‘

پارلیمان کے ایوان بالا میں احتجاج کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں میں جمعہ کی نماز کے بعد نیٹو حملے کے خلاف احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئیں جن میں حکومت سے امریکہ اور نیٹو کے ساتھ تعاون ختم کرنے کے مطالبات کو دہرایا گیا۔

ادھر وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے بھی جمعہ کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو موجودہ قوائد و ضوابط کے تحت آگے بڑھانا ’’اس وقت پاکستان کے لیے ممکن نہیں لگ رہا ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ نیٹو کے لیے رسد کی ترسیل پر عائد کی گئی پابندی کوئی عارضی اقدام نہیں ہے بلکہ پہلی مرتبہ اس کی منظوری وفاقی کابینہ کی قومی سلامتی کی کمیٹی نے دی ہے۔

26 نومبر کو افغان سرحد سے ملحقہ مہمند ایجنسی میں دو پاکستانی چیک پوسٹوں پر نیٹو کے فضائی حملے میں دو افسروں سمیت 24 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG