رسائی کے لنکس

سینیٹر کورکر کا شام امن مذاکرات کے بارے میں شکوک کا اظہار

  • مائیکل بومین

امریکہ کی سینیٹ کی کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے سربراہ باب کورکر

امریکہ کی سینیٹ کی کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے سربراہ باب کورکر

خصوصی انٹرویو میں، سینیٹر باب کورکر نے کہا ہے کہ ’’میں یقینی طور پر سفارت کاری کا حامی ہوں کیونکہ میرے خیال میں، ہر کوئی اِس (سفارت کاری) کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن، موجودہ وقت میں یوں لگتا ہے کہ یہ عناصر اصل میں موجود ہی نہیں‘‘

امریکہ کی سینیٹ کی کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے سربراہ باب کورکر، جن کا تعلق ریپبلیکن پارٹی سے ہے، نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ شام امن مذاکرات لڑائی کے خاتمے یا پھر صدر بشار الاسد کی رضاکارانہ رخصت پر منتج ہوں گے۔

پیر کو ’وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں کورکر نے کہا کہ ’’اِس وقت یہ کہنا انتہائی مشکل بات ہو گی‘‘۔

بقول اُن کے ’’میں یقینی طور پر سفارت کاری کا حامی ہوں، کیونکہ میرے خیال میں، ہر کوئی اِس (سفارت کاری) کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن موجودہ وقت میں، یوں لگتا ہے کہ یہ عناصر اصل میں موجود ہی نہیں‘‘۔

’’جنیوا میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی ابتدائی بات چیت ایسے وقت شروع کرنے کی کوششیں ہوئی ہیں، جب ایک ہی روز قبل شام میں ایک (مقدس زیارت کے قریب) خودکش حملے میں بیسیوں افراد ہلاک ہوئے، جب کہ باغی علاقے میں حکومت کی جانب سے نئی کارروائی شروع کی گئی ہے‘‘۔

کورکر نے توجہ دلائی کہ مذاکرات جاری کرنے کے لیے باغی مذاکرات کاروں کی بنیادی شرائط پوری نہیں کی گئی ہیں۔

سینیٹر کے بقول ’’جو باتیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اُنھوں نے مانگی تھیں، وہ نہیں ہوئیں۔ ناہی خواتین اور بچے رہا ہوئے، جو اسد کی عقوبت گاہوں میں خواتین پر جسمانی تشدد کے نتیجے میں پیدا ہوئے‘‘۔

پیر کے روز کے مذاکرات منگل تک مؤخر کیے گئے ہیں۔ برعکس اِس کے اقوام متحدہ کے ایلچی، اسٹیفن دی مستورا نے دو گھنٹے تک ملاقات کیے ہیں۔

اتوار کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شام میں لڑائی میں ملوث تمام فریق پر زور دیا کہ وہ مکالمے پر رضامند ہوں۔

کیری کے بقول ’’میں دونوں فریقوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ موقع سے پورا فائدہ اٹھائیں، اس موقعے پر سنجیدہ بات چیت کی جانی چاہیئے، ایک دوسرے پر اعتماد کے ساتھ گفتگو ہونی چاہیئے، تاکہ اگلے چند دِنوں کے اندر ٹھوس نوعیت کی پیش رفت حاصل کی جا سکے‘‘۔

لیکن بقول کورکر ’’جب تک میدانِ جنگ میں اُس کی فوج پیش قدمی کرتی ہے، اسد نہیں چاہے گا کہ وہ اپنی چال بدلے یا اقتدار چھوڑ دے۔‘‘

کمیٹی کے سربراہ کے الفاظ میں ’’زمینی حقائق بدل رہے ہیں۔ ایک طرف روس کی مداخلت ہے، اور یقینی طور پر اسد حکومت اُن کی حمایت اور ایران کی حمایت کے ساتھ علاقے فتح کر رہی ہے‘‘۔

ایران کے ساتھ بین الاقوامی جوہری سمجھوتے کا ذکر کرتے ہوئے، کورکر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ کامیاب ہو، باوجود اس بات کے کہ اُنھوں نے اِس کی مخالفت کی تھی اور اُن تحفظات کے باوجود جو آج بھی قائم ہیں۔

کورکر نے بقول ’’جب سے سمجھوتے پر اتفاق کیا گیا ہے، بیلسٹک میزائل کا تجربہ کر کے ،وہ (ایرانی رہنما) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو پامال کر چکے ہیں۔‘‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ اب یہ کانگریس پر منحصر ہے کہ وہ ایران کو سزا دلانے کے لیے تمام ضروری اقدام کرے۔

اُنھوں نے یہ بات ایسے وقت کہی ہے جب دونوں اہم سیاسی جماعتیں آئیووا میں صدارتی امیدواروں کی نامزدگی کی تیاری میں ہیں۔ سینیٹر ٹیڈ کروز نے بارہا اس بات کا عہد کیا ہے کہ صدر منتخب ہونے پر میں وہ ’’ایران کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو پھاڑ کر پھینک دیں گے‘‘۔

جب اُن سے اِن بیانات پر تبصرے کے لیے کہا گیا تو کورکر نے تحمل کا مشورہ دیا۔

کورکر نے کہا کہ ’’میرے خیال میں نیا صدر جاری صورت حال سے عقل مندی سے نبردآزما ہو گا‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’جب لوگ پرائمریز کے لیے جستجو کر رہے ہوں، ایسے میں اپنے عزم کے اظہار کے لیے عمومی طور پر بہت سی باتیں زیب داستاں کے لیے کہہ دی جاتی ہیں۔ منتخب ہونے پر اِسے پھاڑ پھینکنے (عجلت میں منسوخ کرنے) کے بر عکس، شاید بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ اس کا جائزہ لیا جائے اور آگے بڑھا جائے، جہاں آج ہم کھڑے ہیں‘‘۔

اِس سے قبل اِسی ماہ صدر براک اوباما نے معاہدے پر عمل درآمد کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ لڑائی کیے بغیر ایران کے جوہری عزائم کے پَر کاٹ دیے گئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے سینیٹ کی امورِ خارجہ کمیٹی نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خلاف ایوان کے دونوں جانب سے تعزیرات کی منظوری دی تھی، جو اُن اداروں کو ہدف بنائیں گے جو شمالی کوریا کو مالی و حربی مدد فراہم کرتے ہیں۔

کورکر نے بقول ’’اِن میں سے کچھ ادارے چین سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہی وہ ملک ہے جو شمالی کوریا کو روک سکتا ہے۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ (نئی تعزیرات) چین کو مجبور کریں کہ وہ کچھ اقدام کرے جو کسی مثبت پیش رفت کا سبب بنیں‘‘۔

سینیٹ کی جانب سے گزشتہ ہفتے منظور کردہ تعزیرات کے بارے میں ایک سوال پر، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان، مارک ٹونر نے کہا ہے کہ’’ شمالی کوریا کے اقدامات پر زیادہ سخت جواب دینے کے لیے ہم کانگریس کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

XS
SM
MD
LG