رسائی کے لنکس

مشرق وسطیٰ میں روس 'جیت رہا ہے': سینیٹر جان مکین


سینیٹر مکین (فائل فوٹو)

سینیٹر مکین (فائل فوٹو)

سینیٹر مکین نے کہا کہ یہ "ظاہر" ہے کہ گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی فضائی کارروائیوں میں روس داعش کو نہیں بلکہ اعتدال پسند حزب مخالف کو نشانہ بنارہا ہے۔

امریکہ کے سینیٹر جان مکین نے صدر براک اوباما کی انتظامیہ کی طرف سے شام میں روسی فوجی کارروائی پر ردعمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہر کوئی جانتا ہے کہ روس جیت رہا ہیں۔"

ریپبلکن سینیٹر مکین جو بہت پہلے سے عراق و شام میں امریکی زمینی فوجی دستوں کو تعینات کرنے کی حمایت کر رہے ہیں، نے مشرق وسطیٰ کے ایک ٹی وی چینل الحرۃ ٹی وی کو بتایا کہ روس نے اپنے آپ کو (وہاں) مضبوط کر لیا ہے اور "( دوسروں کے مقابلے میں ) اس کا اثرورسوخ بڑھ گیا ہے"۔

"1973 کے بعد سے پہلی بار وہ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑا کردار ادا کر رہے ہیں اور وہ اپنے تمام مقاصد کو حاصل کررہے ہیں جبکہ ہم ایک طرف بیٹھ کر اسے دلدل قرار دے رہے ہیں یا وزیر دفا ع کے الفاظ میں یہ ایک غیر پیشہ وارانہ (طریقہ کار) ہے"۔ مکین نے مزید کہا کہ،" یہ ایک مذاق بن گیا ہے"۔

صدر اوباما نے داعش کے خلاف فضائی کارروائیوں کی منظوری دی تھی جس میں شام میں 2,600 جبکہ عراق میں کی جانے والی 4,600 کارروائیاں شامل ہیں تاہم اس بمباری سے محدود پیمانے پر کامیابی حاصل ہوئی ہے اور تاحال انہوں نے زمینی دستے بھیجنے سے انکار کر رکھا ہے۔

مکین نے کہا کہ یہ "ظاہر" ہے کہ گزشتہ ہفتے شروع کی گئی فضائی کارروائی میں روس داعش کو نہیں بلکہ اعتدال پسند حزب مخالف کو نشانہ بنارہا ہے۔ انہوں نے امریکہ کی ان شامی باغیوں جنہیں اس نے تربیت اور سازوسامان فراہم کیا تھا، کی حفاظت کرنے میں ناکامی کو "انتہائی غیر اخلاقی" کہہ کر اس پر تنقید کی۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے روس کی طرف سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا اور روس اور امریکہ کے درمیان مربوط کارروائیاں کرنے کے متعلق بات چیت کو (روس کو) مطمیئن کرنے کے مترادف قرار دیا۔

مغربی اتحادیوں نے شام میں روس کی مجموعی طور پر شمولیت پر تنقید کرتے ہوئے اس کے طیاروں کی ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے ہیں ۔نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے منگل کو اسٹولن برگ میں نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ یہ خلاف ورزیاں اتفاقیہ نہیں ہوئیں۔

دوسری طرف پیر کو ایک روسی قانون ساز نے کہا تھا کہ "روسی رضاکاروں کی ایک یونٹ" داعش کے انتہا پسندوں کے خلاف لڑنے والی شامی حکومت کے زمینی دستو ں میں شامل ہو سکتی ہے۔ روسی قانون ساز کا یہ بیان ان غیر مصدقہ میڈیا اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ روسی رضاکاروں کو پہلے ہی سے شامی فوج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے منگل کو نامہ نگاروں سے گفتگو میں روسی زمینی فورسز کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی تاہم اس خیال پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے اس حکمت عملی کو بیکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ صیح ہے تو ماسکو " شام میں اپنی غلطیوں کو بڑھاوا دے رہا ہے"۔

XS
SM
MD
LG