رسائی کے لنکس

سینیگال میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں حزبِ اختلاف کے امیدوار میکی سال نے ملک کے موجودہ صدر عبدالئی وعد کو شکست دیدی ہے۔

اتوار کو ہونے والے انتخاب میں میکی سال اور صدر وعد کے درمیان دوبدو مقابلہ تھا جو مسلسل تیسری مدتِ صدارت کے لیے میدان میں تھے۔ لیکن غیر سرکاری نتائج کے مطابق رائے دہندگان کی انثریت نے حزبِ اختلاف کے امیدوار کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

انتخابی نتائج واضح ہونے کے بعد پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میکی سال نے اپنی فتح کو پورے سینیگال کی فتح اور ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا۔

دریں اثنا صدر وعد نے بھی ایک بیان میں نومنتخب صدر کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دی ہے۔ صدر نے اپنے بیان میں اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان پر زور دیا ہے کہ وہ آنے والے پارلیمانی انتخابات پر توجہ مرکوز کریں۔

صدر وعد کی جانب سے کامیاب امیدوار کو مبار ک باد کے پیغام کے اجرا سے ان خدشات کا ازالہ ہوا ہے کہ 85 سالہ صدر دو مدت سے زائد عرصہ صدر رہنے پر عائد آئینی پابندی کے باوجود ہر صورت اس عہدے پر فائز رہنا چاہتے ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ انتخابی عمل کے ذریعے انتقالِ اقتدار کے نتیجے میں سینیگال براعظم افریقہ کے ایک اور پرامن جمہوری ملک کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آیا ہے جہاں کئی ممالک فوجی بغاوتوں، پرتشدد انتخابات اور تاحیات صدور جیسے مسائل کا شکار رہتے ہیں۔

فریقین کی جانب سے انتخابی نتائج تسلیم کیے جانے کے بعد ملک میں ممکنہ بدامنی کے خدشات کا بھی ازالہ ہوگیا ہے اور دارالحکومت ڈاکار میں پیر کو معمول کی کاروباری سرگرمیاں بحال ہوگئی ہیں۔

گو کہ انتخابات کے ابتدائی نتائج کے اعلان میں اب بھی دو دن باقی ہیں لیکن بین الاقوامی مبصرین نے انتخابی عمل کو سراہا ہے۔

انتخابات کی نگرانی کرنے والے علاقائی ممالک کی تنظیم 'افریقی یونین' کے مبصر مشن کے سربراہ اور نائیجریا کے سابق صدر اولسیگان اوباسانجو نے 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو میں انتخابات کو پرامن اور شفاف قرار دیا ہے۔

میکی سال حزبِ اختلاف کے ان 13 امیدواران میں سے ایک تھے جنہوں نے انتخابات کے پہلے مرحلے میں صدر وعد کا مقابلہ کیا تھا۔

یہ مرحلہ صدر وعد 35فی صد ووٹ حاصل کرکے جیت گئے تھے جب کہ سال دوسرے نمبر پر رہے تھے جس کے بعد دونوں امیدواران کے درمیان دو بدو مقابلہ ہوا جس میں حزبِ اختلاف کے تمام دیگر امیدواران مسٹر سال کی حمایت کر رہے تھے۔

نومنتخب صدر نے حکومت میں اصلاحات کرنے اور خوراک کی قیمتوں میں کمی لانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG