رسائی کے لنکس

داعش سے جنگ میں اعلیٰ فوجی کمانڈر ہلاک: عراق


عراقی فورسز کے اہلکار فلوجہ میں اگلے محاذ پر پوزیشن سنبھالے ہوئے۔ فائل فوٹو

عراقی فورسز کے اہلکار فلوجہ میں اگلے محاذ پر پوزیشن سنبھالے ہوئے۔ فائل فوٹو

عراق کی وزارت دفاع کی طرف سے بیان میں کہا گیا کہ بریگیڈیئر احمد بدر الہیبی کی موت سے پورے نینوا صوبے کو داعش کے شدت پسندوں سے ’’خالی کرانے کے عزم‘‘ میں اضافہ ہوا ہے۔

عراق میں داعش کے گڑھ موصل کے قریب شدت پسندوں کی فائرنگ سے ایک اعلیٰ عراقی کمانڈر ہلاک ہو گیا ہے۔

عراق کی وزارت دفاع نے منگل کی شب کہا کہ بریگیڈیئر احمد بدر الہیبی موصل کے جنوب میں ایک گاؤں کو داعش کے قبضے سے چھڑانے کے لیے کیے گئے آپریشن کے دوران گھات لگا کر چلائی گئی گولی سے ہلاک ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ ان کی موت سے پورے نینوا صوبے کو داعش کے شدت پسندوں سے ’’خالی کرانے کے عزم‘‘ میں اضافہ ہوا ہے۔

نینوا کا صوبائی دارالحکومت موصل عراق کا دوسرا بڑا شہر ہے جو جون 2014 میں داعش کے قبضے میں چلا گیا تھا جس نے شمالی اور مغربی عراق اور پڑوسی ملک شام کے ایک تہائی سے زائد حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

بغداد سے 360 کلومیٹر فاصلے پر واقع یہ شہر عراق میں داعش کی خود ساختہ خلافت کا مرکز ہے۔

مغربی صوبے انبار کے شہر فلوجہ کو داعش سے واگزار کرانے کے لیے کارروائیوں کے علاوہ عراقی فوج نے رواں ہفتے موصل کے جنوب اور جنوب مشرق میں علاقوں میں داعش کے ٹھکانوں کے خلاف چھوٹے پیمانے پر کارروائیاں شروع کی تھیں۔

مارچ کے اواخر میں سرکاری فورسز نے موصل کے قریب واقع مخمور اور قیارہ کے درمیانی اور دریائے دجلہ کے مشرقی علاقوں کو صاف کرانے اور داعش کے زیر قبضہ شرقاط کی ایک سپلائی لائن کو توڑنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کیے۔

تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ موصل کو داعش سے جلد واگزار نہیں کرایا جا سکے گا۔ اگرچہ عراقی فوج کو امریکی اتحاد کی طرف سے فضائی معاونت دی جا رہی ہے اور حکومت نواز جنگجو بھی ان کی مدد کر رہے ہیں مگر پھر بھی یہ عراقی فوج کے لیے ایک انتہائی مشکل کام ہو گا۔

ادھر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے کہا ہے کہ اس علاقے میں ہزاروں کی تعداد میں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG