رسائی کے لنکس

ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار 'غیر مناسب گفتگو پر برطرف'


صدر ڈونلڈ ٹرمپ

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ڈیئار اب نیشنل سکیورٹی کونسل کے لیے کام نہیں کرتے اور اب وہ دوبارہ نینشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں اپنے پرانے عہدے پر واپس چلے گئے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو نجی گفتگو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور ان کے قریبی مشیروں پر تنقید کرنے کی بنا پر بر طرف کر دیا گیا ہے۔

کریگ ڈیئار، جنہیں ٹرمپ نے ایک ماہ قبل نیشنل سکیورٹی کونسل کے مغربی خطے سے متعلق ڈویژن کا سربراہ مقرر کیا تھا، کو جمعہ کو واشنگٹن میں ان کے منصب سے ہٹا دیا گیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ڈیئار اب نیشنل سکیورٹی کونسل کے لیے کام نہیں کرتے اور اب وہ دوبارہ نینشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں اپنے پرانے عہدے پر واپس چلے گئے ہیں۔

عہدیدار نے اس معاملے کے بارے میں نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر بات کی ہے کیونکہ ابھی تک سرکاری طور پر اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے، انہوں نے اس معاملے کی مزید تفصیل بھی فراہم نہیں کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ہکابی سینڈرز نے اتوار کو کہا کہ ڈیئار کو "ان کے پرانے عہدے پر واپس بھیج دیا گیا ہے۔"

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا عہدیداروں کو اس بات کی تشویش ہونی چاہیئے کہ اگر وہ صدر پر تنقید کریں گے تو انہیں برطرف کیا جاسکتا ہے تو انہوں نے کہا "میں نہیں سمجھتی کہ اگر کوئی شخص صدر کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ذمہ دار ہے اسے صدر کے ایجنڈے کی مخالفت کرنی چاہیئے۔"

انتظامیہ کے موجودہ اور سابق عہدیداروں نے کہا کہ ڈیئار کی برطرفی کا تعلق ان کی طرف سے واشنگٹن کے تھنک ٹینک ولسن سینٹر میں ایک نجی گفتگو کے دوران دیے گئے بیان سے ہے۔

عہدیداروں نے یہ بات نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر کی کیونکہ وہ اس معاملے کے بارے میں بات کرنے کی مجاز نہیں ہیں۔

اس گفتگو میں شریک ایک شخص کے مطابق ڈیئار نے ٹرمپ انتظامیہ کی لاطینی امریکہ سے متعلق پالیسوں خاص طور پر اس کے میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کے معاملے پر تنقید کی۔

صدر ٹرمپ نے اپنی صدرات کے پہلے ہفتے میں اپنی مہم کے دوران کیے گئے وعدہ کے مطابق میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار تعمیر کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے۔ اس اقدام کی وجہ سے میکسیکو کے صدر نے جنوری کے اواخر میں اپنے واشنگٹن کے دورے کو منسوخ کر دیا۔

ڈیئار نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے ساتھ 2001 سے منسلک ہیں، وہ یونیورسٹی کے کالج آف انٹرنیشنل سکیورٹی کے ساتھ 2010 میں وابستہ ہوئے اور حال ہی میں وہ انتظامیہ کے ڈین کے طور پر کام کر رہے تھے۔

ڈیئار سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فوری طور پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا، دوسری طرف ولسن سینٹر کے عہدیداروں نے بھی اس بابت ذکر کرنے سے یہ کہتے ہوئے احتراز کیا کہ یہ "گفتگو آف دی ریکارڈ" تھی۔

ڈیئار نیشنل سکیورٹی کونسل کے دوسرے عہدیدار ہیں جو ایک ہفتے کے اندر اپنا عہدہ چھوڑ گئے ہیں۔

ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلن نے ان اطلاعات کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے عہدہ صدارت سنبھالنے سے قبل روس کے سفیر کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں روس کے خلاف عائد تعزیرات کے بارے میں بات کی تھی اور انھوں نے بعد ازاں نائب صدر مائیک پینس سے اس بارے میں غلط بیان کی تھی۔

XS
SM
MD
LG