رسائی کے لنکس

سربیا: سانحۂ سریبرینِسا کے مزید سات ملزمان گرفتار


بوسنیا کے قصبے سربیرینِسا میں 2006ء میں دریافت ہونے والی ایک اجتماعی قبر کا منظر

بوسنیا کے قصبے سربیرینِسا میں 2006ء میں دریافت ہونے والی ایک اجتماعی قبر کا منظر

استغاثہ کو شبہ ہے کہ ملزمان اس سرب فوجی دستے کا حصہ تھے جس نے سریبرینِسا میں آٹھ ہزار مسلمان مردوں اور نوجوانوں کو قتل کیا تھا۔

سربیا میں پولیس نے 1995ء میں بوسنیا کے علاقے سریبرینِسا میں آٹھ ہزار مسلمانوں کے قتلِ عام میں ملوث ہونے کے شبہ میں سات افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

سرب حکومت کے ایک عہدیدار نے بدھ کو دارالحکومت بلغراد میں صحافیوں کو بتایا کہ حراست میں لیے جانے والے افراد پر شبہ ہے کہ وہ بوسنیا اور سربیا کی جنگ کے دوران عام شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب میں ملوث تھے۔

عہدیدار نے بتایا کہ استغاثہ کو شبہ ہے کہ ملزمان اس سرب فوجی دستے کا حصہ تھے جس نے سریبرینِسا کے سانحے کے دوران قصبے کے نواح میں موجود ایک گودام میں پناہ گزین ایک ہزار افراد کو قتل کیا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے 'دی ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ سربیا نے ایسے افراد کو حراست میں لیا ہے جن پر 1995ء کے قتلِ عام میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام ہے۔

سریبرینِسا کا سانحہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ میں ہونے والا عام شہریوں کا بدترین قتلِ عام تھا جس میں بوسنیا میں آباد سربوں کے فوجی دستوں نے آٹھ ہزار مسلمان مردوں اور نوجوانوں کو قتل کردیا تھا۔

سریبرینِسا سربیا کے زیرِ انتظام بوسنیا کے علاقے کا ایک مسلم اکثریتی قصبہ تھا جسے 1992ء میں بوسنیا کی جنگ کے آغاز پر اقوامِ متحدہ کے امن رضاکاروں نے اپنی حفاظت میں لے لیا تھا۔

لیکن جولائی 1995ء میں سرب فوج کے دستوں نے قصبے پر حملہ کردیا تھا اور قصبے کی آبادی اور خانہ جنگی کے باعث وہاں پناہ لینے والے سیکڑوں خاندانوں کی عورتوں اور بچوں کو الگ کرکے مردوں اور نوجوانوں کا قتلِ عام کیا تھا۔

عالمی اداروں کے مطابق سریبرینِسا میں لگ بھگ تین روز تک جاری رہنے والے اس قتلِ عام میں سرب فوج اور اس کے حامی رضاکاروں نے آٹھ ہزار مسلمان مردوں اور نوجوانوں کو قتل کرنے کے بعد اجتماعی قبروں میں دفنا دیا تھا جن میں سے کئی قبریں تاحال دریافت نہیں ہوسکی ہیں۔

سربیا نے 2011ء میں اس قتلِ عام میں ملوث سرب فوج کے سابق سربراہ راٹکو ملاڈچ کو بھی گرفتار کیا تھا جنہیں بوسنیا کی جنگ کے دوران روا رکھے جانے والے بدترین جنگی جرائم کا مرکزی ملزم سمجھا جاتا ہے۔

ملاڈچ ان دنوں دی ہیگ کی عالمی عدالت برائے جرائم میں نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG