رسائی کے لنکس

علاج کے بعد، سارجنٹ برگڈہل ڈیوٹی پہ حاضر


فائل

فائل

تاہم، فوج کا کہنا ہے کہ برگڈہل کے لاپتا ہونے اور بازیابی کے بارے میں حقائق اور تفصیل وار روئداد کی چھان بین ابھی جاری ہے

امریکی سارجنٹ، بووے برگڈہل جنھیں افغانستان میں طالبان نےپانچ برسوں تک قید کیے رکھا، پھر سے امریکی بری فوج میں فرائض بجا لانے لگے ہیں۔

فوج کے ایک ترجمان نے پیر کے روز بتایا کہ برگڈہل نے معاشرے میں بحالی کے عمل کا حتمی مرحلہ مکمل کر لیا ہے اور شمالی امریکی فوج میں ڈیوٹی پر مامور کر دیے گئے ہیں، جو امریکہ کی جنوبی ریاست ٹیکساس میں قائم جوائنٹ بیس سان انٹونیو فورٹ سام ہیوسٹن میں واقع ہے۔ وہاں وہ اپنے فوجی مشن کی بجا آوری کریں گے۔

پینٹگان کے ترجمان، امریکی کرنل اسٹیو وارن نے واشنگٹن میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ برگڈہل انتظامی نوعیت کا کام کریں گے، جو ’زیادہ تر ڈیسک کا کام ہے‘۔

فوج کا کہنا ہے کہ برگڈہل کے لاپتا ہونے اور بازیابی کے بارے میں حقائق اور تفصیل وار روئداد کی چھان بین ابھی جاری ہے۔

امریکی فوج کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ برگڈہل 2009ء میں اپنی افغان چوکی سے باہر نکل گئے تھے۔ اُس وقت کے اُن کے فوجی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے اپنی مرضی سے اپنا یونٹ چھوڑا تھا۔

افغان طالبان نے 31 مئی کو سارجنٹ کو رہا کیا جس کے بدلے اُنھوں نے کیوبا میں گوانتانامو بے کے امریکی فوجی حراستی مرکز سے پانچ طالبان لیڈروں کو رہا کرایا۔ اِن قیدیوں کو قطر بھیجا گیا تھا۔

امریکہ میں آمد کے بعد، برگڈہل کو فورٹ سام ہیوسٹن، ٹیکساس کے بروک آرمی میڈیکل سینٹر کے بیرونی مریضوں کے فوجی اسپتال سے طبی امداد فراہم کی گئی۔

XS
SM
MD
LG