رسائی کے لنکس

طبعیاتی علوم کی دنیا کی سب سے بڑی تجربہ گاہ سیرن میں ایک ںئی مشین تیار کی گئی ہے جو کینسر کی رسولیوں کے علاج میں مدد دے سکتی ہے۔

فزکس کی یورپی تجربہ گاہ سیرن میں ایک نیا تیز رفتار ذرہ دریافت ہوا ہے جس کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے کینسر کے علاج میں مدد مل سکتی ہے۔

سیرن طبعیاتی علوم سے متعلق دنیا کی سب سے بڑی زیر زمین تجربہ گاہ ہے جس میں گارڈ پارٹیکل نامی ذرے کا کھوج لگایا گیا تھا جس کے متعلق سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کائنات کی تخلیق میں اس کا اہم کردار ہے۔

سیرن کے آلات بتدریج جدید بنایا جا رہا ہے تاکہ 17 میل لمبی اس دائر ہ نما لیبارٹری سے زیادہ سائنسی معلومات اور ڈیٹا حاصل کیا جا سکے۔

اس تجربہ گاہ میں ایٹم کے ایک جزو پروٹان کورفتار کو روشنی کی رفتار تک بڑھا کر انہیں آپس میں ٹکرایا جاتا ہے تاکہ دنیا کی تخلیق کی گتھی کو سلجھایا جا سکے۔

تجربہ گاہ میں تازہ ترین اضافہ تیل کی پائپ لائن طرز کی 90 میٹر لمبا پائپ ہے جسے زندگی بچانے والی ایک مشین سے جوڑا گیا ہے۔ اس نئے اضافے نے تقریباً 39 سال پرانے ایک آلے کی جگہ لی ہے پروٹون کی بہاؤ کو کنٹرول کرتا تھا۔

اس نئی مشین پر 9 کروڑ ڈالر سے زیادہ لاگت آئی ہے اور اسے بننے میں دس سال کا عرصہ لگا ہے۔

سیرن لیبارٹری میں تیز رفتار ذرات کی مدد سے رسولیوں کے علاج کے لیے بھی ایک مشین نصب کی گئی ہے۔

اس کی مدد سے طبی مقاصد کے لیے آئسوٹوپ تیار کیے جاتے ہیں جو کینسر کی تشخیص اور علاج کے لیےاستعمال ہوتے ہیں۔

اس شعبے کے انچارج ورٹرینر کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ آئسوٹوپ بہت جلد اپنی افادیت سے محروم ہو جاتے ہیں اس لیے انہیں فوری طور پر مریض پر استعمال کرنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم ہلکی پھلکی متحرک مشین بنائی جا رہی ہے جسے اسپتالوں کے اندر استعمال کیا جا سکے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے عجائب گھروں کے لیے ایک مشین کا ماڈل تیار کیا ہے جس کا وزن صرف ایک سو کلو گرام ہے۔ یہ مشین عجائب گھروں میں پینٹنگز اور زیورات کے تجزیہ کر سکے گی۔

اس مشین کے ذریعے یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ اس ہیرے یا قیمتی پتھر کا تعلق کس کان سے ہے ۔ اس کی مدد سے یہ پتا چلایا جاسکے گا کہ پینٹنگ میں کس طرح کے رنگ استعمال ہوئے ہیں اور یہ کہ آیا تصویر کی تزئین و آرائش کی گئی ہے اور یہ کہ آیا وہ نقلی تو نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG