رسائی کے لنکس

برما: قتل کے الزام میں سات مسلمانوں کو سزا


سزا سنائے جانے کے بعد ایک مسلمان ملزم کو عدالت سے جیل منتقل کیا جارہا ہے

سزا سنائے جانے کے بعد ایک مسلمان ملزم کو عدالت سے جیل منتقل کیا جارہا ہے

اب تک فسادات میں ملوث کسی ایک بھی بدھ باشندے کے خلاف فردِ جرم تیار نہیں کی گئی ہے۔

برما کی ایک عدالت نے ایک بدھ بھکشو کے قتل کے الزام میں سات مسلمانوں کو جیل بھیج دیا ہے۔

حکام کے مطابق ملزمان پر رواں برس مارچ میں برما کے شہر میکتھیلا میں ہونے والے مذہبی فسادات کے دوران میں ایک بدھ بھکشو کو قتل کرنے کا الزام ثابت ہوگیا تھا۔

ملزمان کو مختلف مدت کی سزائیں سنائی گئی ہیں جن میں عمر قید سے لے کر دو سال تک جیل کاٹنے کی سزائیں شامل ہیں۔

میکتھیلا میں ہلاکت خیز فسادات کا سلسلہ شہر میں ایک مسلمان جوہری کی دکان پر ہونے والی تکرار سے شروع ہوا تھا جس نے پورے شہر کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔

فسادات کے دوران میں شہر کی بدھ آبادی نے مسلمان بستیوں پر حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں 44 افراد ہلاک اور 12 ہزار سے زائد بے گھر ہوگئے تھے۔

مذکورہ جوہری اور اس کے دو مسلمان ملازموں کو ایک عدالت پہلے ہی 14، 14 سال قید کی سزا سنا چکی ہے۔ ان کے علاوہ اب بھی درجنوں افراد حکام کی حراست میں ہیں لیکن اب تک فسادات میں ملوث کسی ایک بھی بدھ باشندے کے خلاف فردِ جرم تیار نہیں کی گئی ہے۔

منگل کو عدالت کی جانب سے مسلمانوں کو سزا سنائے جانے کے بعد برما کی حکومت نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ ملزمان کو ان کے مذہب کی وجہ سے انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا گیا۔

حکام نے فسادات میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق میکتھیلا میں ہونے والے فسادات اور مسلمانوں پر کیے جانے والے بیشتر حملوں کی قیادت بدھ بھکشووں کے ہاتھ میں تھی جن میں سے کئی شہر میں ایسی دکانوں اور کاروبار کے بائیکاٹ کی مقامی مہم بھی چلا رہے تھے جو مسلمانوں کی ملکیت ہیں۔

میکتھیلا سے شروع ہونے والے مسلم کش فسادات کا سلسلہ بعد ازاں برما کے دیگر وسطی علاقوں تک پھیل گیا تھا لیکن حکومت کی جانب سے ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد ان فسادات پر بڑی حد تک قابو پایا جاچکا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG