رسائی کے لنکس

جناح اسپتال کی ڈاکٹر سیمی جمالی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ منگل کی شب سے اب تک 23 متاثرہ افراد اسپتال لائے گئے جن میں 19 ہلاک ہو چکے ہیں

پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں حکام کے مطابق کچی شراب پینے سے 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

کراچی کے مختلف علاقوں کورنگی، لانڈھی، محمود آباد اور ملیر سمیت کئی دیگر علاقوں میں زہریلی شراب کے استعمال سے یہ ہلاکتیں ہوئیں۔

کراچی کے جناح اسپتال کے شعبہ ہنگامی حادثات کی منتظم ڈاکٹر سیمی جمالی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ منگل کی شب سے اب تک 23 متاثرہ افراد اسپتال لائے گئے جنھوں نے کچی شراب پی رکھی تھی۔

انھوں نے تصدیق کی کہ مختلف علاقوں میں کچی شراب پینے سے رات 8 بجے سے اب تک 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 4 افراد جناح اسپتال میں زیر علاج ہیں جن کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

ڈی آئی جی ایسٹ منیر شیخ نے وائس اف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ ’’شہر کے مختلف علاقوں سے کچی شراب فروخت کرنے والے 3 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔‘‘

ان کا کہنا ہے ایسی شراب کی تیاری کا کوئی باقاعدہ مرکز نہیں بلکہ لوگ چھوٹے چھوٹے گھروں میں ایسی شراب تیار کر کے فروخت کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق اکثر تہواروں کے موقع پر ایسی شراب کے زیادہ استعمال سے جانی نقصان ہوتا ہے۔

ڈی آئی جی ایسٹ نے مزید بتایا کہ اسپتال میں زیر علاج افراد کی نشاندہی پر مختلف علاقوں میں غیر قانونی طریقے سے کچی شراب فروخت کرنے والوں کے خلاف چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG