رسائی کے لنکس

مصر میں صدر مرسی کے حامیوں، مخالفین کے مظاہرے


صدر مرسی کے مخالفین نے اتوار کو قاہرہ میں ایک بڑے مظاہرے کی کال دے رکھی ہے

صدر مرسی کے مخالفین نے اتوار کو قاہرہ میں ایک بڑے مظاہرے کی کال دے رکھی ہے

حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے صدر مرسی کی حکومت کی پہلی سال گرہ کے موقع پر اتوار کو دارالحکومت قاہرہ میں ایک بڑا مظاہرہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے

مصر میں صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں تصادم کے نتیجے میں حکمران جماعت 'اخوان المسلمون' کا ایک کارکن ہلاک ہوگیا ہے۔

'اخوان' کے مطابق صوبہ الشرقیہ کے شہر الزقازیق میں قائم جماعت کے صوبائی دفتر پر جمعرات کی شب حملہ کیا گیا جس میں ان کا ایک کارکن ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوئے۔

حکمران جماعت نے حملے کی ذمہ داری صدر مرسی کے مخالفین پر عائد کی ہے۔ اخوان کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ سیاسی مخالفین کی جانب سے پرتشدد حملوں کے نتیجے میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران میں ان کے پانچ کارکن ہلاک ہوچکے ہیں۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے صدر مرسی کی حکومت کی پہلی سال گرہ کے موقع پر اتوار کو دارالحکومت قاہرہ میں ایک بڑا مظاہرہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس کے پیشِ نظر ملک کی سیاسی فضا کشیدہ ہے۔

حزبِ اختلاف کی جانب سے مظاہرے کے اعلان کے جواب میں 'اخوان المسلمون' اور اس کی اتحادی اسلام پسند جماعتوں کے ہزاروں حامیوں نے جمعے کی نماز کے بعد مصر کے مختلف شہروں میں صدر مرسی کی حمایت میں مظاہرے کیے۔

دارالحکومت قاہرہ میں صدر کے مخالفین نے بھی ایک جلوس نکالا لیکن ذرائع ابلاغ کے مطابق اس میں معمول سے کم لوگ شریک تھے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق جمعے کو ہونے والے مظاہرے پرامن رہے اور کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

لیکن خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ حزبِ اختلاف کی جانب سے اتوار کو ہونے والے مظاہرے کے نتیجے میں صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

مصری فوج نے اپنے ایک بیان میں فریقین کو پرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ اگر مظاہروں نے پرتشدد رنگ اختیار کیا تو فوج "رائے عامہ کے تحفظ" کے لیے مداخلت کرنے پر مجبور ہوگی۔

صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین دونوں کا دعویٰ ہے کہ فوج نے اس بیان کے ذریعے ان کے موقف کی تائید کی ہے۔

صدر مرسی کے مخالفین ان سے حکومت چھوڑنے اور ملک میں نئے صدارتی انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حزبِ اختلاف کا الزام ہے کہ صدر مرسی کی حکومت میں لبرل اور سیکولر طبقوں کی نمائندگی نہیں جب کہ ان کی پالیسیاں بھی یک طرفہ ہیں جن کے باعث ملکی حالات ابتر ہورہے ہیں۔

لیکن لبرل اور سیکولر حلقوں کی جانب سے صدر کی کڑی مخالفت کے باوجود مصر کے اسلام پسند حلقے بدستور صدر مرسی کی حمایت کر رہے ہیں۔

مصر کے سب سے بڑے اور معتبر مذہبی ادارے 'جامعہ الازہر' کی جانب سے بھی جمعے کو صدر مرسی کی حمایت میں ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

'جامعہ الازہر' کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مظاہروں کے پیشِ نظر فریقین کو محتاط طرزِ عمل اختیار کرنا ہوگا ورنہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے۔

بیان میں "مجرم گروہوں" پر احتجاج کے نام پر مساجد کی بے حرمتی کرنے اور سڑکوں اور چوراہوں پر پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG