رسائی کے لنکس

خان پور شیخوپورہ کا نواحی اور دیہی علاقہ ہے جہاں ریلولے لائن پر کوئی پھاٹک نہیں ہے، صرف ایک بورڈ نصب ہے جس پر لکھا ہے کہ ”ریلوے لائن اپنی ذمے داری پر عبور کریں“۔

شیخوپورہ میں خان پور کے قریب چن چی رکشہ اور ٹرین کے تصادم میں مرنے والے افراد کی تعداد 14ہوگئی۔ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ مقامی میڈیارپورٹس کے مطابق ریلوے حکام کی جانب سے حادثے کا ذمے دار رکشہ ڈرائیور کو قرار دیا ہے جس کے حلاف باقاعدہ مقدمہ بھی درج کرادیا گیا ہے۔

خان پور شیخوپورہ کا نواحی اور دیہی علاقہ ہے جہاں ریلولے لائن پر کوئی پھاٹک نہیں ہے، صرف ایک بورڈ نصب ہے جس پر لکھا ہے کہ ”ریلوے لائن اپنی ذمے داری پر عبور کریں“۔

ریسکیو حکام کا بھی یہی کہنا ہے کہ حادثہ پیش آنے کی اصل وجہ ریلوے کراسنگ پر پھاٹک نہ ہونا ہے۔ مقامی رہائشی افراد نے میڈیا سے گفتگوکے دوران بتایا ” ریلوے اور دیگر متعلقہ حکام کی جانب بہت مرتبہ پھاٹک نہ ہونے کی جانب توجہ دلائی گئی لیکن انہوں نے ابدی سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کیا جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔“

ترجمان ریلوے کا موقف ہے کہ حادثہ رکشہ ڈرائیور کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق چنگ چی رکشہ میں12سے15افراد سوار تھے جبکہ اس میں اتنے افراد کی گنجائش نہیں تھی ۔ اوور لوڈ کے سبب رکشہ ریلوے لائن عبورنہ کر سکا اور اس کا انجن عین وقت پر بند ہوگیا۔ اسی دوران میں ٹرین آگئی ۔

واقعے کی تحقیقات کرنے والے مقامی پولیس افسران کا کہنا ہے کہ حادثے میں 2 افراد شدید زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر علاج کی غرض سے مقامی اسپتال اور بعد ازاں لاہور پہنچایا گیا۔

حادثے کے بعد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی گئی جس کے مطابق حادثہ رکشہ کے اوور لوڈ ہونے اور کراسنگ پر پھاٹک نہ ہونے کے باعث پیش آیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حادثے میں 14 افراد جاں بحق اور 2 افراد شدید زخمی ہوئے۔
XS
SM
MD
LG