رسائی کے لنکس

واقعے کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 25 سے زائد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال ٹوبہ ٹیک سنگھ منتقل کر دیا گیا

صوبہٴپنجاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب پیر کو لاہور سے کراچی جانے والی شالیمار ایکسپریس میں دھماکے کی وجہ بھتہ نہ دینا قرار دی جا رہی ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ میں خواہ وہ الیکٹرونک ہوں یا آن لائن اس طرح کی خبریں گرم ہیں کہ چونکہ شالیمار ایکسپریس نجی شعبے کے تعاون سے چلائی جا رہی ہے، لہذا ریلوے حکام سے بھتہ طلب کیا گیا تھا اور نہ دینے کی صورت میں یہ واقعہ پیش آیا۔

پویس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور وزیر ریلولے سعد رفیق نے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ متعدد رہنماوٴں نے اس دھماکے کی سخت الفاط میں مذمت کی ہے۔

مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی دھماکا بھتہ نہ دینے کا نتیجہ ہے تو یہ ہولناک واقعہ ہے۔۔۔جس سے مستقبل میں ریلوے اور دیگر ذرائع آمد و رفت کی سیکورٹی پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔

واقعے کے نتیجے میں کم از کم 3 افرادجاں بحق اور 25 سے زائد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال ٹوبہ ٹیک سنگھ منتقل کردیا گیا۔

واقعے سے متعلق پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکا دیسی ساختہ بم کا تھا جسے ٹرین کی بوگی نمبر سات کے باتھ روم میں نصب کیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نجی شعبے کے تعاون سے چلنے والی شالیمار ایکسپریس کی انتظامیہ سے بھاری بھتہ وصول کیا گیا تھا۔

یہ بھتہ جولائی میں دھمکی آمیز فون کالز کے ذریعے طلب کیا گیا تھا جس کے بارے میں وزیر اور چیئرمین ریلوے کو آگاہ کر دیا تھا، لیکن اس سلسلے میں کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

ٹرین لاہور سے کراچی جارہی تھی کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے 18 کلومیٹر دور چٹیانہ کے مقام پر اس کی اکانومی کلاس کی بوگی نمبر سات میں دھماکا ہوگیا ۔ ریسکیو ٹیموں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر زخمیوں کواسپتال منتقل کیا۔

واقعے سے متعلق ریلوے پولیس کا کہنا ہے کہ کراچی روانگی سے قبل ٹرین کی مکمل چیکنگ کی گئی تھی۔ لیکن، اس کے باوجود یہ واقعہ ہوگیا۔ نشانہ بننے والی بوگی میں 60 مسافر سوار تھے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG