رسائی کے لنکس

بالی ووڈ فلموں کے ایلویس پریسلے' شمی کپور' کی آخری رسومات اداکردی گئیں


بالی ووڈ فلموں کے ایلویس پریسلے' شمی کپور' کی آخری رسومات اداکردی گئیں

بالی ووڈ فلموں کے ایلویس پریسلے' شمی کپور' کی آخری رسومات اداکردی گئیں

بھارتی فلموں کے الویس پریسلے کہلائے جانے والے اداکار شمی کپور کی آخری رسومات پیر کی صبح اداکردی گئیں۔ وہ اتوار کی صبح ممبئی کے برج کینڈی اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد اس جہان فانی سے کوچ کرگئے تھے۔ انہوں نے 79سال کی عمر پائی ۔ انہیں گردوں کا مریض لاحق تھا اور علاج کی غرض سے ہفتے کو انہیں آئی سی یو وارڈ میں داخل کرایا گیا تھا مگر وہ موت کے بے رحم شکنجے سے نہ بچ سکے۔
بالی ووڈ فلموں کے ایلویس پریسلے' شمی کپور' کی آخری رسومات اداکردی گئیں

بالی ووڈ فلموں کے ایلویس پریسلے' شمی کپور' کی آخری رسومات اداکردی گئیں

ان کی آخری رسومات بن گنگا شمشان گھاٹ پران کے بیٹے ادیتا راج کپور اور پوتے کنال نے اداکیں۔ اس موقع پر ان کے نہایت قریبی رشتے دار رنبیر کپور، رشی کپور ، راجیو کپور اور ان کے چھوٹے بھائی ششی کپور بھی موجود تھے۔ ششی کپور کو وہیل چیئر پر لایا گیا تھا جبکہ فلمی فنکاروں کی بھی ایک بڑی تعداد ان کی آخری رسومات کے وقت موجود تھیں جن میں امیتابھ بچن، عامر خان، پریانکا چوپڑا ان کے والد اشوک چوپڑا، مادھوری ڈکشت، انیل کپور، ونود کھنہ ،شتروگھن سنہا ، فردین خان، ٹام الٹر، ٹینو آنند، فلمساز ستیش کوشک، سدھیر مشرا، سنجے لیلا بنسالی، پرکاش جھا، راکیش اوم پرکاش مہرا، آشوتوش، رمیش سپی، روہن سپی، سبھاش گھئی، نکھیل ایڈوانی اوربھارت کے کروڑ پتی تاجروسرمایہ کار انیل امبانی موجود تھے۔ انہوں نے آنجہانی اداکار کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

بالی ووڈ فلموں کے ایلویس پریسلے' شمی کپور' کی آخری رسومات اداکردی گئیں

بالی ووڈ فلموں کے ایلویس پریسلے' شمی کپور' کی آخری رسومات اداکردی گئیں

شمی کپور : بلیک اینڈ وائٹ فلموں سے کلر فلموں تک

1950 اور 1960کے دور کی بلیک اینڈ وائٹ فلموں کے دور میں بھی شمی کپور لاکھوں دل پر راج کیا کرتے تھے۔ گیت ہوں یا مکالمے، یا پھر ڈانس۔۔ ان کا اپنا مخصوص انداز تھا۔ اس اسٹائل نے اس دورمیں وہ دھوم مچائی کہ نوجوانوں نے ان جیسا بننے کی کوشش میں دن رات ایک کردیئے ۔

انہوں نے اپنے مخصوص اسٹائل کی اداکاری اورڈانس کرتے ہوئے کئی کامیاب گانے دیئے مثلاً "آئی یہی یا کروں میں کیا سکو سکو، کھوگیا دل میرا سکو سکو۔۔۔" او حسینہ زلفوں والی چاہے جہاں" ۔۔۔"آج کل تیرے میرے پیار کے چرچے ہر زبان پر "۔۔۔"آجا آجا میں ہوں پیار تیرا، اللہ اللہ انکار تیرا"۔۔

شمی کپور نے 1953ء میں فلموں میں قدم رکھا ۔ یہ وہ دور تھا جب ان کے بڑے بھائی راج کپور اور دیوآنند سپراسٹارز ہواکرتے تھے اور بڑے بڑے فنکار ان کا دم بھرتے تھے۔ ایسے میں شمی کپور کے لئے ان کے سامنے ٹکنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مسلسل سات سالوں تک ان کی ایک بھی فلم باکس آفس پر ہٹ نہ ہوسکی۔ مثلاً" ریل کا ڈبہ، چور بازار، شمع پروانہ، ہم سب چور ہیں، میم صاحب "اور" مس کوکا کولا" ۔ اس دور میں انہیں خود کو اداکارمنوانے کے لئے سخت محنت اور طویل جدوجہد کرنا پڑی۔

سال 1961ء شمی کپور کے لئے نئی نوید لے کر آیا جب انہوں نے اپنا لوہا منوانے کے لئے خود کو یکسر تبدیل کرلیا یہاں تک کہ فلم" تم سا نہیں دیکھا " میں انہوں نے اپنا ہیراسٹائل تک بدل ڈالا۔ ان کا نیا باب کٹ ، ڈک ٹیل اسٹائل اس قدر پسند کیا گیا کہ فلم کے ساتھ ساتھ وہ بھی ہٹ ہوگئے۔

اسی سال ان کی آل ٹائم کلاسک فلم " جنگلی " ریلیز ہوئی ۔ یہ وہ فلم تھی جس کے بعد شمی کپور نے پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ان کی ہرنئی فلم ہٹ اور سپرہٹ ثابت ہوتی چلی گئی ۔"کشمیر کی کلی، راج کمار، جانور، این ایوننگ ان پیرس، بدتمیز، بلف ماسٹر، پگلا کہیں کا ، تیسری منزل ، دل تیرا دیوانہ ،پروفیسراور برم چاری ان کی اسی دور کا کامیاب اور لاجواب فلمیں ہیں۔

1971ء میں ریلیز ہونے والی فلم" انداز"بطور ہیرو ان کی آخری فلم تھی لیکن اس کے بعد جن فلموں میں انہوں نے کریکٹر رولز اداکئے وہ بھی ان کی انمٹ شناخت بنے۔ فلم "ودھاتا" کا ریلوے ڈرائیور اور "پریم روگ "کا روایتی سخت مزاج ٹھاکر کا کردار انہیں فن کی زندگی میں امر کر گیا ہے۔

شمی کپور اتوار 14 اگست کی صبح اس دنیا کو الوداع کہہ گئے لیکن پرچھائیوں کی دنیا میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ جب بھی فلمی کی تعریف اور کارنامے لکھے جائیں گے ان میں شمی کپور جیسے فنکاروں کا ذکر پہلے ہوگا۔

XS
SM
MD
LG