رسائی کے لنکس

ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین نے مقامی حکومت اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے والے عہدیداروں پر الزام لگایا کہ بھگدڑ مچنے کے بعد ان اداروں کا ردعمل انتہائی سست تھا۔

چین نے شنگھائی میں نئے سال کی تقریب کے موقع پر بھگدڑ مچنے سے 36 افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کے بعد 11 سرکاری عہدیدارں کے خلاف کارروائی کی ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ہیونگپا ضلع کے چار اہلکاروں کو نوکری سے برخواست کر دیا گیا جن میں ضلعی سکیورٹی چیف اور نائب پولیس سربراہ شامل ہیں۔

جب کہ دیگر عہدیداروں میں سیاحت، عوامی سکیورٹی اور شہری انتظام کے محکموں سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی ہے۔

تحقیقات سے متعلق تفصیلات بدھ کو جاری کی گئی جن میں عہدیداروں پر الزام عائد کیا گیا کہ ’بند‘ کے مقام پر جہاں عموماً نئے سال کے موقع پر لوگوں کا رش ہوتا ہے، وہاں نا کافی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔

ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین نے مقامی حکومت اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے والے عہدیداروں پر الزام لگایا کہ بھگدڑ مچنے کے بعد ان اداروں کا ردعمل انتہائی سست تھا۔

یہ واقعہ شنگھائی کے وسط میں 2015ء کے آغاز پر نئے سال کی تقریب کے دوران نصف شب سے کچھ دیر پہلے پیش آیا۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ بھگدڑ اُس وقت مچی جب ایک عمارت کی تیسری منزل سے جعلی کرنسی پھینکی گئی جسے حاصل کرنے کے لیے لوگوں یکدم اُس جانب دوڑے۔

چین میں اس سے قبل بھی بھگدڑ مچنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ 2014ء میں چین میں نئے قمری سال کی تعطیلات کے دوران ایک تقریب میں بھگدڑ مچنے سے 37 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG