رسائی کے لنکس

شرمیلا بوس کی کتاب 'ڈیڈ ریکننگ 'کو کچھ مشکل سوالوں کا سامنا

  • واشنگٹن

'میں سمجھ سکتی ہوں کہ بنگلہ دیش ا ور پاکستان میں بھی لوگوں کو اس کتاب کو سمجھنے میں دشواری پیش آئے گی جو اپنے اپنے وطن کی قوم پرستی پر مبنی کہانیاں سن کر بڑے ہوئے ہیں ۔ایسا ہر جنگی تنازعے کے بعد ہوتا ہے ۔لیکن ہاں، یہ ریسرچ پہلے سامنے آنی چاہئے تھی۔۔پھر بھی مجھے خوشی ہے کہ یہ کام مکمل ہوا ۔' بھارتی مصنفہ شرمیلا بوس

کیا یہ کتاب لکھنے کے لئے آپ نے کسی سے پیسے لئے ہیں ۔؟”

ایک چبھتاہوا سوال ہال کی دائیں طرف سے اچھالا گیا تھا ۔سوال اٹھانے والے کے لہجے کی تپش اورچہرے کی ناگوار ی بتا رہی تھی کہ بنگلہ دیشی قوم پرستی کو آنچ دکھائی گئی ہے ۔

“نہیں ۔۔میں نے کتاب لکھنے کے لئے کسی سے پیسے نہیں لئے ۔”

کمال اطمینان اور خندہ پیشانی سے دیا گیا جواب خود صاحب کتاب خاتون کی طرف سے آیا تھا۔

شرمیلا بوس۔ مصنفہ

شرمیلا بوس۔ مصنفہ

واشنگٹن کے ووڈرو ولسن انٹرنیشنل سینٹر فار سکالرز میں ہونے والی یہ تقریب ڈیڑھ سال پہلے مارچ 2011 میں بھارتی صحافی اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے شعبہ سیاسیات اور بین االاقوامی تعلقات کی سینئیر ریسرچ ایسوسی ایٹ شرمیلا بوس کی کتاب کا تنقیدی تعارف پیش کرنے کے لئے منعقد کی گئی تھی ۔
کتاب کا نام تھا ،

Dead Reckoning
The memories of the1971 Bangladesh War

کتاب کے مندرجات کو بنگلہ دیش ہی نہیں ، امریکہ اورخود پاکستان میں بھی صحافیوں ،تاریخ دانوں اور قوم پرست جذبات کی کڑی آزمائش اور مشکل سوالوں کا سامنا ہے ۔ پاکستان میں جہاں اس کتاب کا اردو ترجمہ کیا جا رہا ہے ،اکثرلوگ اس کے مندرجات کو حق کی جیت قرار دے رہے ہیں ۔ لیکن ایسے لوگ بھی موجودہیں ، جنہیں کتاب کے مندرجات سے اتفاق نہیں ۔بنگلہ دیشی اخبارات میں گزشتہ ایک سال کے دوران تواتر سے شرمیلا بوس پر پاکستان سے مبینہ ہمدردی رکھنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

بھارتی بنگال کے سب سے بڑے شہر کلکتہ سے تعلق رکھنے والی شرمیلا بوس ہندوستان کی تحریک آزادی کے راہنما سبھاش چندر بوس کی پوتی ہیں ۔ ان کی کتاب 1971 میں مشرقی اور مغربی پاکستان کی علیحدگی کے ان واقعات کی تحقیق پر مبنی ہے ۔ جس میں پاکستانی فوج کوجنگی جرائم اور بنگالی خواتین کی بے حرمتی کے ان گنت واقعات کے لئے مورد الزام ٹہرایا گیا تھا ۔کتاب میں سن 71 کے مشرقی پاکستان اور آج کے بنگلہ دیش میں پیش آنے والے واقعات کے بیانئے اور جنگ کے انسانی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
شرمیلا بو س کہتی ہیں کہ ان کی ریسرچ کا بڑا حصہ ، جس میں پاکستان اور بنگلہ دیش میں کیا جانے والا فیلڈ ورک شامل ہے جو2003 سے 2007 کے دوران انجام پایا ۔جبکہ کتاب کا کچھ کام برطانیہ اور امریکہ میں بھی کیا گیا۔

ذیل میں شرمیلا بوس سے کئے گئے ٹی وی انٹرویو کی تفصیلات درج کی جا رہی ہیں ۔جو انہوں نے وائس آف امریکہ اردو کی تابندہ نعیم کو دیا تھا۔ شرمیلا بوس کا وڈیو انٹرویو دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے ۔

سوال:اس کتاب پر ریسرچ کے لئے آپ نے کتنے لوگوں سے بات کی اور وہ کون لوگ تھے ؟
شرمیلا بوس : بنگلہ دیش میں میں نے ایسے بہت سے افراد سے بات کی، جو 1971 کے واقعات میں کسی نہ کسی طرح شامل تھے ، یا ان کے عینی شاہد تھے،جن کے بارے میں میں تحقیق کر رہی تھی۔یہ انٹرویوز،جن کا ذکر میری کتاب میں ہے،بنگلہ دیش کے دیہاتوں ، شہروں اور کئی اضلاع میں جا کر کئے گئے۔جن واقعات کا میں نے جائزہ لیا، وہ دسمبر 1970 ، جنوری 1971 سے مارچ 1972 تک کے ہیں ۔اس لئے وہ سب لوگ جو وہاں خود موجود تھے ، یا ان کے عینی گواہ تھے ، ان سے میں نے بنگلہ دیش میں بات کی ۔ تو آپ خود سوچ سکتی ہیں کہ وہ لوگوں کی کتنی بڑی تعداد ہو گی ۔ پاکستان میں میں نے کوشش کی کہ میں ایسے افراد سے بات کروں ، جو1971میں مشرقی پاکستان میں تعینات مغربی پاکستان کے حاضر سروس جونئیر آرمی آفیسرز تھے ۔ جنہوں نے مشرقی پاکستان میں مارشل لا ڈیوٹی کی ۔ شرپسند عناصر کے خلاف کارروائیاں کیں ۔ میں کچھ سینئیر فوجی افسران سے بھی ملی ۔ خوش قسمتی سے میں نے جنرل نیازی کی موت سے پہلے ان سے بھی ملاقات کی ۔ میں نے صاحبزادہ یعقوب خان سے بھی ملاقات کی تھی ۔ لیکن زیادہ تر میں نے ان لوگوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ، جو اس وقت پاکستانی فوج میں کیپٹن، لیفٹننٹ یا میجر کے طور پر تعینات تھے ۔ یا کچھ رجمنٹس میں کمانڈنگ آفیسرز تھے ، اور اب تک حیات تھے ۔۔مجموعی طور پر میں نے تین درجن سے زائد پاکستانی آرمی آفیسرز سے بات کی اور بنگلہ دیش میں جن لوگوں سے میری بات ہوئی ، ان کی تعداد کی گنتی کرنا بھی مشکل ہے ۔ کیونکہ جب دیہی علاقوں میں آپ لوگوں کے انٹرویو کر رہے ہوتے ہیں ، تو اکثر سینکڑوں لوگ یونہی جمع ہو جاتے ہیں ۔ اور ایک سے بات کرو تو کئی اور لوگ بھی گفتگو میں حصہ لینے لگتے ہیں ،اپنے تجربات بتاتے ہیں ۔ اس لئے میں ٹھیک سے نہیں بتا سکتی کہ بنگلہ دیش میں میری دراصل کتنے لوگوں سے بات ہوئی۔

منصفہ شرمیلا بوس سے انٹرویو کی ویڈیو


سوال : وہ کیا چیز تھی ، جس نے آپ کو تاریخ کے ایک ایسے واقعے کی تحقیق پر اکسایا، جو چالیس سال پہلے ہوا تھا ،جب آج کی نسل کے بیشتر افراد پیدا بھی نہیں ہوئے تھے ۔کیوں آپ کو یہ خیال آیا کہ بنگلہ دیش کی کہانی کے مضمرات کو گہرائی میں جا کر دیکھنا ضروری ہے ۔۔؟

شرمیلا بوس : 1971 کی جنگ میرے ساتھ تب سے ہے ، جب میں ایک بچی تھی اور کلکتہ میں بڑی ہو رہی تھی (شرمیلا بوس 1971 میں بارہ سال کی تھیں )میری اپنی یادداشت میں اب تک وہ تکلیف دہ اور پیچیدہ واقعات موجود ہیں ، جو ہمارے بالکل نزدیکی شہر میں پیش آئے ۔ میرے خاندان کے کئی افراد مشرقی پاکستان سے آنے والے مہاجرین کے لئے امدادی سرگرمیوں میں شامل رہے تھے ۔ تو یہ واقعات میرے ساتھ ساتھ اس وقت سے تھے، جب سے میں نے بین الاقوامی سیاست میں دلچسپی لینی شروع کی ۔ مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ مجھے اس بارے میں کچھ لکھنا چاہئے ۔یہ اور بات کہ مجھے اس کا موقعہ اس واقعے کے تیس، پینتیس سال بعد جا کر ملا ۔

سوال :آپ کے خیال میں آج کے بنگلہ دیش اور پاکستان میں آپ کی کتاب کے مندرجات کا وزن کیسا تولا جائے گا؟

شرمیلا بوس : کتاب کے مندرجات بہت متوازن ہیں ،مگر بنگلہ دیش اور پاکستان دونوں میں ایسے لوگ ہونگے، جنہیں اس کتاب پر یقین کرنے،اور انہیں سمجھنے میں دشواری پیش آئے گی ۔ایسا اس لئے ہے کہ 40برسوں کے دوران دونوں ملکوں اور بھارت میں بھی اپنے طور پر ایک قوم پرستی پر مبنی دیو مالا تشکیل پا چکی ہے ۔ اس جنگ کے بارے میں کوئی غیر جذباتی ، غیر جا نبدار اور منظم ریسرچ نہیں ہوئی ۔چونکہ ہم میں سے بیشتر لوگ ایسی کہانیاں سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں ، میں خود بھی اس کہانی کا وہی بیانیہ سن کر بڑی ہوئی، جس پر بھارت اور بنگلہ دیش کی چھاپ تھی ۔توجب میں نے یہ ریسرچ شروع کی، اس وقت میں خود بھی نہیں جانتی تھی کہ کیا نتائج سامنے آئیں گے ۔میرا خیال تھا کہ چونکہ71 کے واقعات مکمل طریقے تحریری شکل میں نہیں لائے گئے ، اس لئے میں ایسی تفصیلات معلوم کروں گی ، جو کہیں درج نہیں ہوئیں ۔یعنی اس واقعے کے دستاویزی حقائق کا بھی خود جائزہ لوں گی ۔لیکن جب میں نے تحقیق کے لئے لوگوں سے بات کرنی شروع کی ، تو جو حقائق میرے سامنے آئے وہ ان کہانیوں سے مختلف تھے ، جنہیں سن کر میں بڑی ہوئی تھی ۔ مجھے خود بھی ان پر یقین کرنے میں دشواری پیش آئی ۔ میں سمجھ سکتی ہوں کہ بنگلہ دیش ا ور پاکستان میں بھی لوگوں کو اس کتاب کو سمجھنے میں دشواری پیش آئے گی جو اپنے اپنے وطن کی قوم پرستی پر مبنی کہانیاں سن کر بڑے ہوئے ہیں ۔ایسا ہر جنگی تنازعے کے بعد ہوتا ہے ۔لیکن ہاں ،یہ ریسرچ پہلے سامنے آنی چاہئے تھی۔۔پھر بھی مجھے خوشی ہے کہ یہ کام مکمل ہوا ۔
اکہتر کے واقعات کی پیچیدگی پر مکالمہ شروع ہونا میری کتاب کا بڑا کنٹری بیوشن ہوگا

سوال :پاکستان کے مشرقی اور مغربی حصے کی علیحدگی میں آپ پاکستانی فوج کا کیا کردار دیکھتی ہیں اور بھارت کے کردار کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟

شرمیلا بوس : یہ کتاب بھارت کے کردار کے بارے میں نہیں ہے ۔ اگرچہ بھارت کا اس واقعے میں بہت کردار رہا ۔لیکن میری کتاب ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اس تنازعے سے براہ راست متاثر ہوئے ۔پاکستانی فوج کا جہاں تک تعلق ہے، وہ اس سال کے دوران ریاست کی پالیسی کے اطلاق کا ذریعہ تھی ۔ گو کہ وہ ریاستی پالیسی کے اطلاق کا ذریعہ مارچ 1971 کے بعد بنی ۔۔جبکہ میری کتاب اس سے کچھ مہینے پہلے سے شروع ہوتی ہے ۔مگر (پاک) فوج نے کیا کیا۔۔یہ ایک پیچیدہ معاملہ رہے گا ۔فوج میں ایسے لوگ تھے ، جو شرپسندوں کے خلاف نہایت ہی مشکل حالات میں ہر ممکن طریقے سےکارروائیاں کر نے کی کوشش کر رہے تھے، اور جنگ کے ضابطہ اخلاق پر عمل کر رہے تھے ۔ ان میں کئی اچھے اور معتبر لوگ تھے ، جو شاید اپنے ملک کی پالیسی سے مکمل اتفاق نہ کرتے ہوں مگر وہ ، وہ کام کرنے کی کوشش کر رہے تھے ، جو انہیں کرنے وہاں بھیجا گیا تھا ۔ لیکن ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے جنگی جرائم کئے ۔تو ا71 کے تنازعے میں کئی nuancesاور پیچیدگیاں موجود ہیں ، اس میں ملوث تمام اداروں ، فریقوں اور کرداروں کی طرف سے ۔میری کتاب کا سب سے بڑا کنٹری بیوشن یہ ہوگا کہ ان تمام پیچیدگیوں کے بارے میں بات چیت اور مکالمہ شروع کیا جائے ۔کیونکہ قوم پرست دیومالا ئی قصوں (nationalistic mythology (میں واقعات اور چیزوں کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے ، اور اس تنازعے کے دونوں سروں پر کھڑے فریقوں نے ایسا ہی کیا ۔مگر اس سے کسی کی مدد نہیں ہوتی۔

سوال: بنگلہ دیش کی پیدائش کی کہانی میں آپ ولن کے طور پر کس کو دیکھتی ہیں ؟

شرمیلا بوس :مجھے ڈر ہے کہ اس کہانی میں کوئی اچھا کردار نہیں ہے ۔اس تنازعے کے ہر سرے پر برے لوگ موجود تھے اور اچھے لوگ بھی تھے ، مگر مجموعی طور پر اس تنازعے میں کسی فریق کا کردار قابل تعریف نہیں تھا ۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے واقعات کے بارے میں کچھ تفصیلات ووڈرولسن سینٹر فار سکالرز کے اس بلاگ پوسٹ میں پڑھے جا سکتے ہیں ۔

http://empireslastcasualty.blogspot.com/2011/08/woodrow-wilson-ceenter-us-hosting-of-dr.html

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG