رسائی کے لنکس

شرمیلا فاروقی کی منگنی اور عباس ٹاوٴن بم دھماکے

  • کراچی

دھماکوں کے بعد شرمیلا کی منگنی کا ذکر میڈیا میں اتنی بارآیا کہ جن لوگوں کو اس کے بارے میں علم نہیں تھا وہ بھی اس سے آگاہ ہوگئے

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی سابق مشیر شرمیلا فاروقی نے آخر کار منگنی کرلی۔

اگرچہ اس منگنی کو ہوئے ایک ہفتے سے بھی زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، لیکن عباس ٹاوٴن بم دھماکوں کے بعد اس منگنی کا ذکر مقامی ذرائع ابلاغ میں اتنی بار آیا کہ جن لوگوں کو اس کے بارے میں علم نہیں تھا وہ بھی اس سے آگاہ ہوگئے۔

اگرچہ منگنی کی تقریب اور عباس ٹاوٴن بم دھماکوں میں آپس میں کوئی تعلق نہیں لیکن گڑبڑ اس وجہ سے ہوئی کہ جس دن ان کی منگنی کی خوشی میں کھانےکا اہتمام کیا گیا تھا اسی دن اور انہیں اوقات میں اتفاق سے کراچی کے علاقے عباس ٹاوٴن میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آگیا۔

واقعے کے فوری بعد سے مقامی میڈیا رپورٹس میں بار بار یہ کہا جاتا رہا کہ متعلقہ حکام اس وجہ سے جائے حادثہ پر نہ پہنچ سکے کہ وہ شرمیلا فاروقی کی نجی تقریب میں پرٹوکول ڈیو ٹی پر تھے۔ اس تقریب کا اہتمام کلفٹن میں واقع موہٹہ پیلس میں کیا گیا تھا۔

لیکن شرمیلا فاروقی نے ان الزامات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر انہوں نے کچھ اس طرح ٹوئٹ کیا ہے:’عباس ٹاوٴن ڈسٹرکٹ سینٹرل میں ہے جبکہ موہٹہ پیلس ڈسٹرکٹ ساوٴتھ میں۔ دونوں علاقوں کے ڈی آئی جیز، ایس ایس پیز اور ایس ایچ او علیحدہ علیحدہ ہیں۔۔‘

جب شرمیلا سے ان کے فنکشن پر موجود بھاری پولیس نفری کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا: ’بتیس ہزار پولیس اہلکار 400مہمانوں کی حفاظت کر رہے تھے؟ مجھ پر تنقید کے لئے کوئی اور بہانہ ڈھونڈا جائے تو بہتر ہوگا‘۔

شرمیلا نے یہ بھی وضاحت کی کہ اتوار کی شام ان کی منگنی کی تقریب نہیں تھی بلکہ ڈنر تھا۔۔ وہ مزید ٹوئٹ کرتی ہیں: ’میری طرف سے ایک اور آخری وضاحت۔۔ میر ی منگنی 24 فروری کو میرے گھر پر ہوچکی تھی اور اتوار کی رات صرف ڈنر تھا۔سمپل۔‘

دراصل عباس ٹاوٴن میں دھماکے کے کئی گھنٹوں کے بعد تک پولیس اورر ینجرز کے سینئر حکام یا انتظامیہ کے افسران نے جائے حادثہ کا دورہ نہیں کیا تھا۔ اس لئے منگنی کی خبر کو عباس ٹاوٴن بم دھماکوں سے جوڑ دیا گیا۔

چلتے چلتے شرمیلا کی منگنی سے متعلق کچھ تفصیلات بھی سن لیں:

ان کے منگیتر کا نام حشام ریاض شیخ ہے۔ شرمیلا نے اپنے ہونے والے جیون ساتھی حشام ریاض شیخ کے حوالے سے روزنامہ ’ایکسپریس‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بتایا ’میرے اور حشام کے درمیان بہت اچھی کیمسٹری ہے، کیونکہ ہماری عادات ایک دوسرے سے بہت ملتی جلتی ہیں۔ حشام مجھے میری تمام خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ پسند کرتے ہیں۔‘

حشام ریاض شیخ کی عمر 30 سال ہے۔ وہ نیو یارک میں بینکر تھے۔ لیکن، اب اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری کے مشیر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ حشام شیخ نے ایک سوال کے جواب میں مسکراتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری میرا پہلا اور شرمیلا دوسرا پیار ہیں۔

دونوں کی ملاقات پہلی دفعہ اکتوبر 2012 ءمیں کابینہ کے اجلاس میں ہوئی تھی اور یہیں سے معاملات پھر آگئے بڑھے۔
XS
SM
MD
LG