رسائی کے لنکس

پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نےسابق وزیر اطلاعات شیری رحمٰن کو حسین حقانی کی جگہ واشنگٹن میں پاکستان کی نئی سفیر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بدھ کو ایک سرکاری بیان میں بتایا گیا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے شیری رحمٰن کو ہدایت کی ہے کہ وہ واشنگٹن میں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران ’’اقتصادی سفارت کاری پر بھرپور توجہ دیں‘‘۔

امریکہ میں بطور پاکستانی سفیر مقرر کیے جانے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایک تقریب کے اختتام پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں شیری رحمٰن نے اس تاثر کو رد کیا کہ واشنگٹن میں اعلیٰ قیادت کو لکھے گئے متنازع خط کے پاک امریکہ تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

’’اس سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر کوئی قدغن نہیں لگی ہے۔ پاکستان اور امریکہ کا باہمی تعلقات میں بہتری لانے کا وسیع ایجنڈا ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت قومی مفاد اور جمہوری اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے امریکہ سے اپنے تعلقات میں بہتری کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔

شیری رحمٰن کی حکمران پیپلز پارٹی سے پرانی وابستگی ہے اور وہ ہمیشہ سے جمہوری نظام کی حمایت کرتی آئی ہیں۔ اس تقرری سے قبل وہ پاکستان میں حلال احمر کی سربراہ کے عہدے پر فائز تھیں۔

اُن کے پیش رو حسین حقانی ایک روز قبل وزیر اعظم گیلانی کی ہدایت پر امریکہ میں بطور پاکستانی سفیر کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ اس اقدام کی وجہ صدر آصف علی زرداری سے منسوب وہ متنازع خط ہے جس میں پاکستانی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہان کی برطرفی کے لیے امریکی قیادت سے حمایت طلب کی گئی تھی۔

تاہم شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ حسین حقانی کے مستعفی ہونے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ اس معاملے میں ملوث تھے۔

’’اُنھوں نے بہت با عزت انداز میں استعفیٰ دیا ہے ... وہ نہیں چاہتے تھے کہ اُن کی ذات پر جو تنازع اُٹھ کھڑا ہوا ہے اس سے پاکستان کے وقار کو نقصان پہنچے یا کوئی قدغن آئے۔‘‘

حسین حقانی کو اُن کے عہدے سے ہٹانے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے حکومت کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ مبینہ مکتوب کی تیاری اور امریکی حکام کی طرف سے اس کے موصول ہونے کی تصدیق کے بعد ’’قومی مفاد کے پیش نظر اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے اصل حقائق کا پتہ لگانا ناگزیر ہوگیا ہے‘‘۔

حسین حقانی پر خط کا مصنف ہونے کا الزام پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین منصور اعجاز نےعائد کیا ہے جس کا اصرار ہے کہ یہ مکتوب انھوں نے سابق پاکستانی سفیر کے کہنے پر مئی میں اُس وقت کے امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک ملن کو پہنچایا تھا۔

حقانی نے اس خط سے لاتعلقی اور اپنے اوپر لگائے گئے الزمات کو بنیاد قرار دے کر مسترد کیا ہے لیکن منصور اعجاز کا اصرار ہے کہ اُن کے پاس اپنے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد ہیں جن کا انھوں نے پاکستانی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا سے بھی تبادلہ کیا ہے۔

شیری رحمٰن کی تقرری اکثر مبصرین کے لیے حیرت کا باعث بنی ہے کیوں کہ عمومی طور پر کسی ایسی شخصیت کو یہ ذمہ داریاں سونپی جانے کی پیش گویاں کی جا رہی تھیں جو فوجی قیادت کے زیادہ قریب یا اُس کے لیے قابل قبول ہو۔

نامزد سفیر پارلیمان کی قومی سلآمتی کی کمیٹی کی رکن ہیں، اس لیے مبصرین کا ماننا ہے کہ وہ سکیورٹی سے متعلق پاکستانی اُمور کو اچھی طرح سمجھتی ہیں اور فوج کے ادارے کے ساتھ بھی اُن کے اچھے تعلقات رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG