رسائی کے لنکس

وسیم اختر کے خلاف ڈاکٹر عاصم حسین کیس اور مبینہ طور پر شرانگیز تقاریر میں سہولت کاری سمیت 27 مقدمات میں وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے

سندھ ہائی کورٹ نے متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے نامزد میئر وسیم اختر کی دو مختلف مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کرلی ہے۔ وسیم اختر بدھ کو ضمانت کی درخواست کے ساتھ سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔

انہوں نے مختلف مقدمات میں اپنے وارنٹ گرفتاری کے خلاف حفاظتی ضمانت کی غرض سے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان پر مقدمات سیاسی بنیاد پر قائم کئے گئے ہیں۔ لہذا، وہ عدالت میں پیش ہو کر ان مقدمات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن، خدشہ ہے کہ انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔

عدالت نے مؤقف سننے کے بعد وسیم اختر کی سہراب گوٹھ اور سائٹ سپرہائی وے پولیس اسٹیشن میں درج مقدمات میں18 جنوری تک 50، 50 ہزار روپے کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔

وسیم اختر کے خلاف ڈاکٹر عاصم حسین کیس اور مبینہ طور پر شرانگیز تقاریر میں سہولت کاری سمیت 27 مقدمات میں وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے۔

کراچی میں 5 دسمبر 2015 کوہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم نے کامیابی حاصل تھی جس کے بعد وسیم اختر کو پارٹی کی جانب سے میئر کے عہدے کے لئے نامزد کیا گیا۔ وہ ممکنہ طور پر فروری میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔

حیدر عباس رضوی کی بھی ضمانت منظور
ادھر ایم کیو ایم کے ہی ایک اور رہنما حیدر عباس رضوی بھی بدھ کو تین مقدمات میں سندھ ہائی کورٹ میں حفاظتی ضمانت کی درخواستیں داخل کرنے کی غرض سے پیش ہوئے تھے جن میں سے دو مقدمات میں انہیں عبوری ضمانت مل گئی۔

ان پر پارٹی سربراہ الطاف حسین کی متنازع قرار دی جانے والی تقریر میں سہولت کار ہونے پر تین مقدمات درج ہوئے تھے جس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے۔

XS
SM
MD
LG