رسائی کے لنکس

شعیب شیخ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ ایف آئی اے اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اسے ان کے مؤکل کو گرفتار کرنے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے انہیں پہلے ہی 2 نوٹس جاری ہوچکے ہیں، اس لئے ان کی حفاظتی ضمانت منظور کی جائے

جعلی ڈگریاں بنانے کے اسکینڈل میں ملوث آئی ٹی فرم ’ایگزیکٹ‘ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر شعیب شیخ کی حفاظتی ضمانت کی درخواست منظور نہیں ہو سکی اور سندھ ہائی کورٹ اسے مسترد کر دیا۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس احمد علی شیخ کی عدالت میں دائر درخواست میں شعیب شیخ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ ایف آئی اے اس معاملے کی تحقیقات کررہی ہے اور اسے ان کے مؤکل کو گرفتار کرنے کا اختیار حاصل ہے؛ جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے انہیں پہلے ہی 2 نوٹس جاری ہوچکے ہیں۔ اس لئے ان کی حفاظتی ضمانت منظور کی جائے تاکہ ان کے مؤکل شعیب شیخ اپنے اوپر عائد الزامات کا دفاع کرسکیں۔

اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شعیب شیخ کے خلاف ایف آئی آر یا کوئی مقدمہ درج ہوا ہے؟ انکار پر عدالت نے درخواست مسترد کر دی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ معاملے کی کوئی ایف آئی آر ہی درج نہیں ہوئی تو حفاظتی ضمانت کی درخواست بے معنی ہے۔

سماعت کے دوران، ایف آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی ادارہ سیکشن 5 مجریہ 1974 کے تحت کارروائی کر رہا ہے۔ تاہم، ابھی تک نہ تو اس کیس کی کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور نہ ہی ایگزیکٹ کا کوئی آفس سیل کیا گیا ہے۔

تفتیش اور شواہد کی روشنی میں جو بھی ملوث ہوگا اس کے خلاف قانون کے مطابق ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ اس لئے درخواست ضمانت قبل از گرفتاری قابل سما عت ہی نہیں۔

عدالت نے دونوں فریق کے دلائل سننے کے بعد ایف آئی اے کا مؤقف درست تسلیم کرتے ہوئے شعیب شیخ کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

XS
SM
MD
LG