رسائی کے لنکس

شیری رحمٰن، سوانحی خاکہ


شیری رحمٰن، سوانحی خاکہ

شیری رحمٰن، سوانحی خاکہ

حکومت پاکستان نے شیری رحمٰن کو امریکہ میں سفیر کے منصب پر فائز کر دیا ہے۔ میڈیا پر پابندی کے معاملے پر صدر آصف علی زرداری سے اختلافات کے باعث وزارت اطلاعات سے مستعفی ہونے والی شیری رحمٰن کو 2 سال 8 ماہ اور 14 دن بعد کوئی اہم منصب ملا ہے۔

میڈیا کے اندازے غلط

منگل کو میمو اسکینڈل پر امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر حسین حقانی کے مستعفی ہونے کے بعد پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر امریکی سفیر کے لیے مختلف نام لئے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ ان ناموں میں سے ایک نام کو اس عہدے کے لیے انتہائی موزوں سمجھا گیا۔ یہ نام تھا سیکرٹری خارجہ سلمان بشیرکا جنھیں سب سے مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا تھا ۔

مذکورہ ناموں کے علاوہ بیجنگ میں پاکستانی سفیر مسعود خان، یورپی یونین کے لیے جلیل عباس جیلانی، جنرل (ر) جہانگیر کرامت، سابق سفیر ملیحہ لودھی، فرح ناز اصفہانی اور سلمان فاروقی کے نام بھی لیے گئے۔ تاہم، اِن میں سے قرعہ نکلا سابق وزیر اطلاعات شیری رحمٰن کے نام۔ بلاشبہ اس نام پر بہت سے افراد حیرت میں پڑ گئے۔ ان کے نزدیک یہ غیر متوقع فیصلہ جو تھا۔

شیری رحمٰن کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی پر ایک نظر

شیری 10 سال تک کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز یعنی سی پی این ای کی رکن بھی رہیں۔ سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کے مطابق شیری رحمٰن قومی اسمبلی کی رکن ہیں اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی چیئرپرسن کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہی تھیں۔ وہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کی اہم رکن اور جناح انسٹی ٹیوٹ آف اسلام آباد کی بانی صدر بھی ہیں جو ایک خود مختار پبلک پالیسی انسٹی ٹیوٹ ہے اور اس کا مقصد علاقائی امن اور پاکستان میں جمہوریت کا دوام ہے۔

شیری رحمٰن اس سے قبل بھارت کے ساتھ متعدد ٹریک ٹو اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں شریک رہی ہیں۔ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ادارہ جاتی مذاکراتی عمل کی کنونیئر بھی ہیں۔ انھوں نے پاکستان کو درپیش کئی اسٹریٹیجک سیکورٹی چیلنجوں پر جامع لیکچرز دیئے۔ وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کی لیجیسلیٹیو کونسلوں کی بھی اہم رکن ہیں۔

شیری رحمٰن نے مارچ 2008ء سے مارچ 2009ء تک وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔ وفاقی وزیر کی حیثیت سے انھوں نے 2008ء میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کیلئے پہلی ان کیمرہ نیشنل سیکورٹی بریفنگ تیار کی اور اسے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا۔ اس بریفنگ کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف پہلی باضابطہ اور متفقہ قرارداد کی منظوری دی گئی۔

شیری رحمٰن نے 20 سالہ سینئرپیشہ ور صحافی کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے ہوئے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف قانون ساز کے طور پر عوامی آواز بلند کی۔ انھوں نے کئی اعزازات حاصل کئے جن میں انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جمہوری ہیرو کا اعزاز اور 2011ء میں خواتین کیلئے جن کرپیٹرک ایوارڈ نمایاں ہیں۔

اعزازات
معروف جریدے نیوز پاکستان نے مارچ 2011ء کے شمارے میں ان کی تصویر صفحہ اول پر شائع کرتے ہوئے انھیں پاکستان کی انتہائی اہم خاتون قرار دیا تھا جبکہ فارن پالیسی میگزین نے انھیں 2011ء کے معروف عالمی مفکرین میں شمار کیا ہے۔ انھیں برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز سے آزادی صحافت کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے ۔

انھوں نے سنہ 2008ء کے عام انتخابات میں سندھ سے خواتین کی مخصوص نشست پر انتخابات میں حصہ لیا اور31 مارچ 2008ء کو وفاقی وزارت اطلاعات کے منصب پر فائز ہو گئیں۔ تاہم، ایک سال اور 14 دن بعد14 مارچ 2009ء کو وہ اپنی وزارت میں دیگر لوگوں کی مداخلت اور میڈیا پر قدغن سے متعلق صدر آصف علی زرداری سے اختلافات کے باعث مستعفی ہو گئیں۔


مستعفی وزیر اطلاعات کی مشکلات


29نومبر 2010ء کو رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے شیری رحمن نے توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کیلئے قومی اسمبلی میں ایک بل جمع کروایا ۔ اس قانون کے تحت ایک عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو سزائے موت دی گئی تھی ۔ان کے اس اقدام پر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے انھیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ،جبکہ آسیہ بی بی کی حمایت کرنے والے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور شیری رحمن کے خلاف ریلیاں بھی نکالی گئیں ۔


چار جنوری2011ء کو سلمان تاثیر کے اپنے ہی محافظ کے ہاتھوں قتل اور دو مارچ دو ہزار گیارہ کو اقلیتی امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے بعد ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے توہین رسالت میں ترمیم کیلئے قومی اسمبلی میں بل پیش کرنے پردہشت گردوں کا اگلا ہدف شیری رحمٰن کو قرار دیاجس کے بعد انہیں ملک چھوڑنے کےمشورے بھی دیئے جانے لگے تاہم وہ ملک میں ہی رہیں ۔


شدید دباؤ کے باعث دو مارچ کوشیری رحمٰن نے توہین رسالت میں قانون کا ترمیمی بل قومی اسمبلی سے واپس لے لیا ۔ نومبر 2010کے آخری عشرے میں صدر آصف علی زرداری سے اختلافات کے باعث شیری رحمٰن کی کلفٹن میں رہائش گاہ کے باہر ان کے خلاف مظاہرے بھی کیے گئے ۔

XS
SM
MD
LG