رسائی کے لنکس

جوتے کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ گائے کے چمڑے سے بنا ہے۔جسے تیل سے نرم بنایا گیا ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا اندازہ ہے کہ وہ کسی درخت یا پودے یا چربی سے حاصل کیا جانے والا تیل ہے۔جب کہ ہمارا قیاس یہ ہے کہ ممکن ہے کہ وہ تیل کسی انسان کا ہو کیونکہ حاکم اور محکوم کارشتہ اس وقت بھی موجود تھا

جوتا صرف پاؤں میں پہننے کی ہی چیز نہیں ہے بلکہ یہ پولیس تھانوں اور محاورں سے لے کر تاریخ کھنگالنے تک میں کام آتا ہے۔حال ہی میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے آرمینیا کی ایک غار سے چمڑے کا بنا ہوا ایک جوتا دریافت کیاہے جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ساڑھے پانچ ہزار سال پرانا ہے، یعنی اہرام مصراور ہڑپہ ،موہنجوداڑو کے دور سے بھی پرانا۔ جوتے کی خوبی محض اس کا پرانا ہونا نہیں ،بلکہ اس کا فیشن ایبل ہونا بھی ہے۔ گویا جب کچھ نہ تھا، فیشن تب بھی تھا۔

جوتے کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ گائے کے چمڑے سے بنا ہے۔جسے تیل سے نرم بنایا گیا ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا اندازہ ہے کہ وہ کسی درخت یا پودے یا چربی سے حاصل کیا جانے والا تیل ہے۔جب کہ ہمارا قیاس یہ ہے کہ ممکن ہے کہ وہ تیل کسی انسان کا ہو کیونکہ حاکم اور محکوم کارشتہ اس وقت بھی موجود تھا ، جب تاریخ موجود نہیں تھی۔ آثار قدیمہ والوں کا کہنا ہے کہ غار سے جوچیزیں ملی ہیں، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے وہ کسی سردار یا حاکم کاگھر تھا ۔ جب کہ غار کے باہر ایسے آثار موجود ہیں کہ وہاں اس کے پہرے دار یا غلام رہتے تھے۔

جوتے کی تہہ میں گھاس بھری گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ غالباً پاؤں کو آرام پہنچانا ہے۔ گویا یہ جوتا ، اس زمانے میں کسی نرم ونازک پاؤں کی زینت رہا ہوگا۔ جوتے پر چمڑے کے تسمے ہیں ۔ اور وہ سائز میں موجودہ دور کے سات نمبر کے جوتوں کے برابر ہے۔ جو آج کل کی اکثرا سٹار خواتین کے جوتوں کا سائز ہے۔آثار قدیمہ کے ماہرین کا قیاس ہے کہ وہ جوتا کسی خاتون کے استعمال میں رہا ہوگا۔وہ خاتون کون ہوسکتی ہے؟ ملکہ یا شہزادی یا کوئی اسٹار۔۔۔اس بارے میں فی الحال کوئی اندازہ نہیں لگایا گیا۔

اس سے قبل دریافت ہونے والا چمڑے کا قدیم ترین جوتا 19 سال پہلے اٹلی اور آسٹریا کی سرحدسے ملا تھا جوکسی برفانی انسان کاتھا۔ مگراس جوتے کی عمر اس نئی دریافت سے 300 سال کم ہے۔

حال ہی میں آن لائن جریدے پولیس ون میں دنیا کے اب تک کے قدیم ترین جوتے پر شائع ہونے والی رپورٹ نے ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے۔شکاگو یونیورسٹی کے شعبہ بشریات کے پروفیسر ایڈم اسمتھ کا کہنا ہے کہ اس جوتے کی حیثیت ایک آئس برگ کی سی ہے۔ اور ایک بڑی تاریخ اس کے نیچے چھپی ہے۔گویا تاریخ بھی جوتے کے نیچے ہے۔

آن لائي جریدے کے مطابق جوتے کی ساخت اور ڈیزائن ان جوتوں سے بہت ملتا جلتا ہے جو1950 ء کے عشرے تک مغربی آئرلینڈ میں پہنے جاتے تھے۔ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر فن ہاسی کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ جوتابنانے کے لیے جوٹیکنیک اور اسٹائل اختیار کیا گیا ہے، وہ تقریباً وہی ہے جو لگ بھگ ایک ہزار برس تک اس علاقے میں استعمال کیا جاتا رہاہے۔

سطح سمندر سے ساڑھے چار ہزار فٹ کی بلندی پر واقع اس پتھریلی غار کی کھدائی سے ماہرین کو صرف ایک ہی جوتا ملا ہے۔ دائیں پاؤں کا جوتا۔بائیں پاؤں کا جوتا شاید اس لیے نہیں مل سکا ، جوغالباً اس شہزادے کے پاس ہے،جو اپنی سینڈریلا کو ڈھونڈے کے لیے ملکوں ملکوں مارا پھر رہاہے۔

XS
SM
MD
LG