رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر: سرکاری تعلیمی اداروں کو تدریسی عملے کی کمی کا سامنا

  • روشن مغل

فائل

حکومت کے مطابق وادی کے سرکاری اسکولوں کو 3400 اساتذہ کی کمی کا سامنا ہےجن کی بھرتی کے لیے فنڈز دستیاب نہیں ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیکڑوں تعلیمی اداروں کو تدریسی عملے کی کمی کا سامنا ہے۔

حکام کے مطابق وادی میں موجود چھ ہزار سے زائد سرکاری اسکولوں اور 150 سے زائد کالجوں میں سے 40 فیصد میں اساتذہ کی تعداد ضرورت سے کم ہے جس کی وجہ سے معیاری تعلیم کی فراہمی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔

محکمہ تعلیم کے مرکز برائے جائزہ و اصلاح کے ناظم خواجہ جاوید اقبال نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ اسٹاف کی کمی کی وجہ سے مطلوبہ نتائج کے حصول میں مشکل پیش آرہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے ساڑھے چار لاکھ بچوں کو تعلیم دینے کے لیے 32 ہزار اساتذہ تعینات ہیں۔

دوسری طرف سرکاری کالجوں میں تدریسی عملے کی کمی کی وجہ سے کئی مضامین سرے سے پڑھنے کے لیے پیش ہی نہیں کیے جاتے۔

محکمہ تعلیم کے شعبہ کالجز کی ڈپٹی سیکرٹری فرزانہ رسول نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کئی علاقوں میں قائم سرکاری کالجوں میں اسٹاف نہ ہونے کی وجہ سے سائنسی مضامین کی تعلیم نہیں دی جارہی۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق وادی کے سرکاری اسکولوں کو 3400 اساتذہ کی کمی کا سامنا ہے جن کی بھرتی کے لیے فنڈز دستیاب نہیں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG