رسائی کے لنکس

شٹل کے خلابازوں کے مِشن کی پہلی خلائى چہل قدمی


خلائی شٹل اِنڈیور

خلائی شٹل اِنڈیور

دو خلابازوں نےباہر خلامیں نکل کربین الاقوامی خلائى سٹیشن کے آخری اہم حصّے کو سٹیشن کےساتھ جوڑ دیا

امریکہ کے خلائى ادارے، ناسا نے کہا ہے کہ شٹل کے دو خلابازوں نے باہر خلا میں نکل کر بین الاقوامی خلائى سٹیشن کے آخری اہم حصّے کو سٹیشن کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

ساڑھے چھ گھنٹے سے زیادہ دیر تک اس خلائى چہل قدمی میں شٹل اینڈیور کے باب بَین کن اور نکولاس پیٹرک نے ایک 792 مکعب میٹر کے کمرے کو خلائى سٹیشن کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

خلائى سٹیشن میں یہ نیا اضافہ ایک ایسی رصد گاہ کے طور پر کام کرے گا، جہاں سے زمین کے پُر شکوہ مناظرکو دیکھا جاسکے گا اور جو خلابار سٹیشن سے باہر نکل کر کام کریں گے، اُن کی نگرانی کی جاسکے گی۔اس رصد گاہ کو پوری طرح سٹیشن سے جوڑنے کے لیےاینڈیور کے 13 روز کے مِشن کے دوران ، خلابازوں کو دو بار اور خلائى سٹیشن سے باہر نکل کر کام کرنا ہوگا۔

شٹل پیر کے روز ریاست فلوریڈا میں کنیڈی سپیس سینٹر سے روانہ ہونے کے بعد، بدھ کے روز بین الاقوامی خلائى سٹیشن کے ساتھ لنگر انداز ہوگئى تھی۔

سالِ رواں کے ختم ہونے سے پہلے شٹل کی چار مزید پروازوں کا منصوبہ ہے اور ان پروازوں کے بعد ، اسی سال شٹل کے بیڑے کو ریٹائر کردیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG