رسائی کے لنکس

’پُر امن بقائے باہمی‘ خطے کی ترقی کے لیے ناگزیر


جنرل اشفاق پرویز کیانی

جنرل اشفاق پرویز کیانی

پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھارت کے ساتھ تنازع سیاچن کے مذاکراتی حل کی حمایت کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ’’پُر امن بقائے باہمی‘‘ پر زور دیا ہے۔

اُنھوں نے ان خیالات کا اظہار شمالی شہر سکردو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنھیں بدھ کو پہلی مرتبہ سیاچن گلیشئر کے قریب گیاری سیکٹر میں برفانی تودے کی زد میں آنے والے فوج کے بٹالین ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کروایا گیا۔

’’اس تنازع کا حل ہونا چاہیئے ... اور پُرامن بقائے باہمی بہت اہم ہے تاکہ ہم (پاکستان اور بھارت) لوگوں کی فلاح و بہبود پر اپنی توجہ مرکوز کر سکیں۔‘‘

جنرل کیانی نے کہا کہ پاکستان بخوبی سمجھتا ہے کہ دفاع اور ترقی کے درمیان توازن قائم ہونا چاہیئے کیوں کہ حقیقی معنوں میں کسی بھی ملک کی سلامتی صرف سرحدوں کے تحفظ سے ممکن نہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ عوام کی تمام ضروریات پوری ہوں۔

’’اس وجہ سے یقیناً ہم دفاع پر اپنا خرچ کم کرنا چاہیئں گے اور ہر ملک کو ایسا ہی کرنا چاہیئے۔‘‘

لیکن پاکستانی فوج کے سپہ سالار نے واضح کیا کہ ملک کا دفاع فوج کا اولین فرض ہے جسے کسی قسم کے نقصانات سے قطع نظر سرانجام دیا جائے گا۔

’’ہم اپنا فریضہ سرانجام دیتے رہیں گے اور مالی اخراجات یا جانی نقصانات ہمیں ایسا کرنے سے باز نہیں رکھ سکتے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ سیاچن گلیشئر پر افواج کی تعیناتی کا یقیناً سبب موجود ہے اور اس کی ذمہ داری پاکستان پر نہیں۔ جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے سیاچن کی ماحولیاتی حیثیت بہت اہم ہے کیوں کہ یہ گلیشئر کئی دریاؤں کو پانی مہیا کرتا ہے۔

’’ہمیں معلوم ہے کہ فوجیوں کی موجودگی سے گلیشئر اور وہاں کا ماحول متاثر ہوتا ہے اور بالآخر اس سے دریائے سندھ بھی متاثر ہوگا، اور پانی اور اس کا استعمال بہت اہم معاملہ ہے۔‘‘

سیاچن گلیشئر تک رسائی کے لیے اہم گزرگاہ گیاری میں پیش آنے والے سانحے کے بارے میں جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ برف تلے دبے پاکستانی فوج کے اہلکاروں اور سویلین ملازمین کو نکالنے کا کام مکمل کیا جائے گا چاہے اس میں جتنا بھی وقت لگے۔

’’میں نے سیاچن میں اپنے افسران و جوانوں کو بتا دیا ہے کہ اس میں چاہے چھ ماہ لگیں یا چھ سال ہم یہ کریں گے۔‘‘

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG