رسائی کے لنکس

سیالکوٹ قتل مقدمہ: سات ملزمان کو سزائے موت، چھ کو عمر قید

  • افضل رحمٰن

سیالکوٹ

سیالکوٹ

دو بھائیوں منیب اور مغیث کو سرِعام پُرتشدد طریقے سے قتل کرنے کے اِس مقدملے میں سات افراد کو سزائے موت، چھ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، جب کہ پانچ افراد کو بری کر دیا گیا

سینٹرل جیل گوجرانوالہ میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے منگل کو رات دیر گئے دوہرے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سنایا جو سیالکوٹ کے نواحی علاقے کے 18افراد پر ایک برس سے چل رہا تھا۔

دو بھائیوں منیب اور مغیث کو سرِعام پُرتشدد طریقے سے قتل کرنے کے اِس مقدملے میں سات افراد کو سزائے موت، چھ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، جب کہ پانچ افراد کو بری کر دیا گیا۔

اِسی مقدمے میں سیالکوٹ کے سابق ڈی پی ا و، قار چوہان سمیت نو پولیس والوں پر بھی دفعہ 155-Cکے تحت فردِ جرم عائد تھی۔

اُن پر الزام تھا کہ جِس وقت تشدد کے ذریعے دو بھائی قتل ہوئے یہ پولیس والے موقعے پر موجود ہونے کے باوجود اپنا فرض پورا نہ کرسکے تھے۔اِن نو پولیس والوں کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے تین تین سال قید سنائی ہے۔

مقدمے کا فیصلہ سننے کے بعد مقتول بھائیوں کے والد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پہلے بھی کسی سے دشمنی نہیں تھی اور نہ آئندہ کسی سے دشمنی کا کوئی ارادہ ہے۔ جنھوں نے یہ گھناؤنا عمل کیا خدا نے اُنھیں سزا دے دی ہے۔

سیالکوٹ میں گذشتہ برس دو بھائیوں ، 19سالہ منیب اور 15سالہ مغیث کو 18افراد نے ڈکیتی میں ملوث قرار دے کر مقامی آبادی اور پولیس اہل کاروں کی موجودگی میں تشدد کرکے ہلاک کردیا تھا۔

اِس واقعے کی وڈیو نجی ٹی وی چینلز پر چلنے کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے اس کا از خود نوٹس لیا اور انکوائری کا حکم دیا۔ بعد ازاں، پولیس نے بھی اس واقعے کی تفتیش کی اور گجرانوالہ کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں 13ماہ تک کارروائی کے بعد اِس مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا۔

XS
SM
MD
LG