رسائی کے لنکس

آن لائن امتحان میں پہلی پوزیشن لینے والی سدرہ صاحبزادہ


سدرہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں خواتین کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہے اور اگر ہم اپنی خواتین کو تعلیم یافتہ بنائیں گے تو اس سے ملک میں خواندگی کی شرح میں اضافہ ہو گا۔

پاکستان کی تقریباً نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ مگر ان میں تعلیم یافتہ خواتین کی تعداد بہت کم ہے۔ اور اگر صوبہ خیبر پختونخوا کی بات کریں تو وہاں کی صورت ِحال کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ لیکن اس کے باوجود صوبے میں اب بھی ایسے خواتین ہیں ،جنہوں نے صرف اندرونِ ملک ہی نہیں بلکہ باہر بھی اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ انہی میں سے ایک سدرہ صاحبزادہ بھی ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والی سدرہ پشاور کے 'پروفیشنل اکیڈمی آف کامرس' سے تعلیم حاصل کر رہی ہیں جنہوں نے اے سی سی اے(چارٹرڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنگ ) کے آن لان ٹیسٹ میں 180 ممالک کے طلبا کو پیچھے چھوڑ کر پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔

سدرہ نے وائس آف امریکہ کی اردو سروس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اے سی سی اے کا انتخاب اس وجہ سے کیا تھا کہ ان کے خاندان میں زیادہ تر افراد میڈیکل اور انجینئرنگ کے میدان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن وہ کچھ مختلف کر نا چاہتی تھیں۔دوسری وجہ یہ تھی کہ ہمارے ملک کی معاشی حالت دوسرے ممالک کی نسبت اچھی نہیں ہے۔ اس لیے ان کے بقول ہمیں معاشیات کے شعبے میں آگے آنا چاہیے۔

سدرہ کا مزید کہنا تھا کہ میرے والدین نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی۔ جب میں نے شروع میں اس مضمون کا انتخاب کیا تو میرے والدین کی نظر میں یہ میرے لیے تھوڑا مشکل انتخاب تھا۔تاہم جب انھوں نے دیکھا کہ میں اس مضمون میں آگے بڑھ رہی ہوں تو پھر انھو ں نے میری زیادہ حوصلہ افزائی کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب مجھے ای میل ملی کہ میں نے پہلی پوزیشن حاصل کی تو مجھے بے حد خوشی ہوئی۔

خیبر پختونخوا میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے اس کا کہنا تھا کہ اس صوبے کی خواتین تعلیم کے میدان میں آگے آرہی ہیں۔ لیکن ابھی بھی صوبے کے بعض علاقے ایسے ہیں، جہاں پر لوگ اپنی بیٹیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں کر رہے ہیں۔اور اگر کچھ لوگ ایسا کر بھی رہے ہیں تو وہ لڑکیوں کو زیادہ تر میٹرک تک پڑھاتے ہیں اور اس کے بعد اعلیٰ تعلیم نہیں دلاتے۔

سدرہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں خواتین کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہے اور اگر ہم اپنی خواتین کو تعلیم یافتہ بنائیں گے تو اس سے ملک میں خواندگی کی شرح میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ اے سی سی اے کے انتخاب کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ دیکھنا چاہتی تھیں کے دوسرے ممالک اتنی تیزی سے کس طرح ترقی کر رہے ہیں؟ ان کے بقول میں ان کے نظام کو سمجھنا چاہتی تھی۔اب میں اس مضمون میں آگے بڑھ کر چارٹرڈ اکاؤٹینسی یعنی 'سی اے' کرنا چاہتی ہوں۔اور پڑھائی مکمل کرنے کے بعد پاکستان میں رہ کر اپنے ملک کے لیے کچھ بہتر کرنا چاہتی ہوں۔

مکمل رپورٹ ذیل میں سماعت فرمائیے۔

XS
SM
MD
LG