رسائی کے لنکس

خیبر پختونخواہ: حملے میں سکھ رکن صوبائی اسمبلی ہلاک

  • شمیم شاہد

سردار سورن سنگھ کو بونیر میں نشانہ بنایا گیا۔ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان محمد خراسانی نے ذرائع ابلاغ کے نام بھیجے گئے ایک پیغام میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخواہ کے رکن صوبائی اسمبلی اور وزیراعلیٰ کے مشیر سردار سورن سنگھ کی آخری رسومات ہفتہ کو ان کے آبائی علاقے میں ادا کر دی گئیں۔ انھیں ایک روز قبل نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

پولیس کے مطابق بونیر میں پیر بابا کے علاقے میں جمعہ کی شام سردار سورن سنگھ پر فائرنگ کی گئی۔ سردار سورن سنگھ کو انتہائی زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نا ہو سکے۔

کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان محمد خراسانی نے ذرائع ابلاغ کے نام بھیجے گئے ایک پیغام میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

پولیس کے مطابق بظاہر یہ ٹارگٹ کلنگ یعنی ہدف بنا کر قتل کرنے کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ انتظامیہ نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے مشتبہ افراد کی تلاش شروع کر دی ہے اور ہفتہ کو دو مشتبہ افراد کو حراست میں لینے کا بتایا گیا ہے۔

سردار سورن سنگھ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے اور سکھ برادری کے ایک اہم اور با اثر رکن تھے۔ وہ جماعت اسلامی سے بھی وابستہ رہے تاہم اب وہ تحریک انصاف کا حصہ تھے۔

سوات سے تعلق رکھنے والے ہندو برادری کے ایک سیاسی رہنما اور سابق سینیٹر امرجیت ملہوترا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں شدت پسند جس طرح مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اسی طرح غیر مسلم آبادی بھی ان کے نشانے پر ہے۔ انھوں نے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے ایسے واقعات کے تدارک کا مطالبہ کیا۔

پاکستان کی مجموعی آبادی میں سکھوں کی تعداد تقریباً ایک فیصد بنتی ہے جن میں سے صوبہ خیبر پختونخواہ میں اُن کی ایک قابل ذکر تعداد آباد ہے۔

سوات اور اس سے ملحقہ اضلاع میں طالبان کے خلاف 2009 میں ایک بڑا آپریشن کر کے شدت پسندوں کو وہاں سے مار بھگایا گیا تھا لیکن اب بھی سوات، بونیر اور دیگر ملحقہ علاقوں میں امن کمیٹی کے رضا کاروں اور پولیس اہلکاروں پر اکا دکا حملے ہوتے رہتے ہیں۔

حکام ایسے واقعات کو شدت پسندوں کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا ردعمل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیا جاری رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG