رسائی کے لنکس

جیل سے فرار ہونے والا سکھ علیحدگی 'پسند کمانڈر' گرفتار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

49 سالہ ہرمیندر سنگھ منٹو کو دس سے زائد دہشت گرد مقدمات کا سامنا ہے جس میں ڈیرا سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم پر قاتلانہ حملہ بھی شامل ہے۔

بھارت کی ریاست پنجاب میں نابھا جیل سے فرار ہونے والے ایک مشتبہ سکھ علیحدگی پسندی کمانڈر ہرمندر سنگھ منٹو کو حکام نے دوبارہ گرفتار کرنے کا بتایا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق کالعدم خالصتان لبریشن فرنٹ کے مبینہ سربراہ کو دہلی اور ہریانہ کی سرحد کے قریب سے گرفتار کیا جب کہ ان کے ساتھ جیل سے فرار ہونے والے دیگر پانچ ملزموں کی تلاش تاحال جاری ہے۔

اتوار کو علی الصبح پولیس کی وردیوں میں ملبوس متعدد حملہ آوروں نے نابھا جیل کے باہر تعینات محافظ کو زخمی کیا اور جیل میں اندھا دھند فائرنگ کی اور وہاں سے ہرمیندر سنگھ منٹو اور پانچ دیگر ملزموں کو لے کر فرار ہو گئے تھے۔

اس واردات کے بعد پنجاب میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر کے مفروروں کی تلاش شروع کر دی گئی اور اس دوران جیل سے 25 کلومیٹر دور ایک پولیس چوکی پر مشکوک گاڑی پر پولیس نے فائرنگ کی جس میں ایک خاتون ہلاک ہوگئیں۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والی خاتون غلطی سے فائرنگ کا نشانہ بنیں۔ اطلاعات کے مطابق بعد ازاں پلوندر سنگھ نامی ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جس نے پولیس کو بتایا کہ جیل سے فرار کے منصوبے میں مبینہ طور پر منٹو اور کشمیر سنگھ نامی ملزم شامل نہیں تھے اور یہ منصوبہ وکی گووندر نامی ملزم کو فرار کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق منٹو کو مبینہ طور پر جیل سے فرار کے اس منصوبے کا علم ہوا تو وہ بھی اس میں شامل ہو گیا۔

49 سالہ ہرمیندر سنگھ منٹو کو دس سے زائد دہشت گرد مقدمات کا سامنا ہے جس میں ڈیرا سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم پر قاتلانہ حملہ بھی شامل ہے۔

اسے 2014 میں دہلی ایئر پورٹ پر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

بھارت کی ریاست پنجاب میں سکھ اپنی علیحدہ ریاست کے مطالبے کو لے کر مسلح تحریک چلاتے رہے ہیں جو کہ 1970 کی دہائی میں شروع ہوئی اور مختلف علیحدگی پسند گروپ تشکیل پائے۔

ان کی کارروائی میں شدت 1984ء میں امرتسر کے گولڈن ٹیمپل پر فوج کی کارروائی کے بعد آئی جو حکومت نے یہاں سے مبینہ سکھ عسکریت پسندوں کو نکالنے کے لیے کی تھی۔

گولڈن ٹیمپل سکھوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے اور اس پر فوج کشی نے انھیں برانگیختہ کر دیا اور اسی کے ردعمل میں بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کے سکھ محافظوں نے قتل کر دیا تھا۔

تین دہائیوں تک جاری رہنے والی اس شورش پسندی میں 20 ہزار سے زائد افراد مارے گئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی بتائی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG