رسائی کے لنکس

برطانیہ میں سائنس دانوں نے ایک ایسا آسان ٹیسٹ ایجاد کیا ہے جو صرف مریض کے سانس کے تجزئیے سے نتائج دے سکے گا

ذیابیطس ٹائپ 1 کا مرض زیادہ تر بچوں اور نوجوانوں میں پایا جاتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا مریضوں کو ذیابیطس کے لیے نہ صرف اپنی خوراک کو بغور مانیٹر کرنا ہوتا ہے، بلکہ اس حوالے سے انسولین کے انجیکشنز بھی لینے ہوتے ہیں، تاکہ ان کے جسم میں خون میں شکر کی سطح درست رہ سکے۔

مریض میں شوگر یا ذیابیطس کے مرض کی تشخیص کے لیے ضروری ہے کہ مریض کے خون کا نمونہ حاصل کرکے اس کا تجزیہ کیا جائے۔ بہت سے بچے اور نوجوان اس عمل سے گھبراتے ہیں۔

اس بات کے توڑ کے لیے اب برطانیہ میں سائنس دانوں نے ایک ایسا آسان ٹیسٹ ایجاد کیا ہے جو صرف مریض کے سانس کے تجزئیے سے نتائج دے سکے گا۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر برس 80 ہزار بچے ٹائپ 1 ذیابیطس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اگر اس مرض کی بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو ذیابیطس کا مرض بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ذیابیطس کے مریضوں کا جسم اس مرض کی وجہ سے کئی کیمیکلز جاری کرتا ہے، جس میں Ketone نامی کیمیکل نمایاں ہے۔ Ketone کیمیکل کے باعث ذیابیطس کے مریض کے منہ میں ایک مخصوص بُو پائی جاتی ہے۔

برطانوی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا آلہ ایجاد کیا ہے کہ جس کی مدد سے سانس کا تجزیہ کرکے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آیا متاثرہ شخص کے سانس میں Ketone اور Acetone کیمیکلز پائے جاتے ہیں یا نہیں؟ اس ٹیسٹ کی مدد سے ذیابیطس ٹائپ 1 کی نشاندہی ایک آسان کام ہو جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس آسان ٹیسٹ کو ذیابیطس کی تشخیص کا پہلا مرحلہ سمجھنا چاہیئے اور بعد میں اس مرض کی مکمل تشخیص اور معلومات کے لیے خون کا مکمل معائنہ اور ٹیسٹ کرا کے ماہر ڈاکٹر سے ملنا بہت ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG