رسائی کے لنکس

بندش سے بچنے کے لئے لوگ فرنچائزز کے سامنے قطار در قطار کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ چھٹی کے دنوں میں بھی سموں کی تصدیق کی جاتی رہی۔ لیکن ۔۔۔ آج یہ صورتحال ہے کہ جہاں تل دھرنے کو جگہ نہ ہوتی تھی وہ فرنچائزز اور دکانیں آج ویران پڑی ہیں

پاکستان میں 26 فروری تک ہر جگہ یہ شور عام تھا کہ عوام نے اپنی موبائل سمز کی بائیومیٹرک تصدیق نہ کرائی تو انہیں بند کردیا جائے گا۔ چنانچہ، بندش سے بچنے کے لئے لوگ فرنچائزز کے سامنے قطار در قطار کھڑے ہوگئے۔ یہاں تک کہ چھٹی کے دنوں میں بھی سموں کی تصدیق کی جاتی رہی۔ لیکن، جیسے ہی حکومت نے تصدیقی مہم کے دوسرے مرحلے کے لئے اپریل کی تاریخ کا اعلان کیا، عوامی دلچسپی یکدم ختم ہوگئی۔

اور آج یہ صورتحال ہے کہ جہاں تل دھرنے کو جگہ نہ ہوتی تھی وہ فرنچائزز اور دکانیں آج ویران پڑی ہیں۔ حالانکہ، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ابھی ایک کروڑ 30لاکھ سموں کی تصدیق ہونا باقی ہے اور اگر عوام کی عدم دلچسپی اسی طرح جاری رہی تو 12 اپریل کی ڈیڈ لائن تک یہ کام مکمل ہونا مشکل ہوجائے گا۔

حکومت پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت تمام موبائل صارفین اور فون سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ملک بھر میں زیرگردش ساڑھے 13 کروڑ سموں کی بائیومیٹرک تصدیق کرانے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں، تاکہ ان سموں کو دہشت گردانہ کاروائیوں کے دوران بطور ڈیٹونیٹر استعمال نہ کیا جا سکے۔

موبائل فون فرنچائزز کے عملے نے ’وائس آف امریکہ‘ کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’سموں کی تصدیق میں عوامی دلچسپی مسلسل گھٹ رہی ہے اور اب صرف 20فیصد افراد ہی تصدیق عمل کے لئے سرگرم نظرآتے ہیں۔‘

صدر اور اس کے اطرافی علاقوں میں موجود کچھ موبائل فرنچائزز پر مامور عملے کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’عدم دلچسپی کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اول یہ کہ لوگوں کو لگتا ہے کہ تاریخ میں ایک مرتبہ پھر توسیع کردی جائے گی اور بار بار کی توسیع سے یہ مہم اپنی افادیت کھودے گی۔ پھر لائنوں میں لگنے کا کیا فائدہ۔ دوسرے اب تک کسی طرح بھی یہ بات کسی کے سامنے نہیں آئی ہے کہ فلاں فلاں آدمی کی غیر استعمال شدہ سمز بند ہوگئی ہوں۔‘

ایک اہلکار کے بقول 13 اپریل کی ڈیڈلائن دو یا اس سے کم سمز رکھنے والوں کے لئے مقرر کی گئی تھی۔ لیکن، عوام نے یہ سمجھا کہ شاید سم تصدیق کی تاریخ میں توسیع کی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ نئی تاریخ کے اعلان سے یہ غلط فہمی بھی زور پکڑ گئی کہ شاید حکومت اس بارے میں نرم موقف اختیار کرے گی۔

تاہم، اس کے برخلاف پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)کا موقف یہ ہے کہ تصدیقی مہم کے خاتمے کی حتمی تاریخ12 اپریل 2015 ہے۔ تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ہی یہ تاریخ مقرر کی گئی تھی۔

چیئرمین پی ٹی اے ڈاکٹر اسمعیٰل شاہ پہلے ہی سیلولر موبائل فون کمپنیوں کے سی ای اوز کے ہمراہ باقاعدہ ایک پریس کانفرنس میں کہہ چکے ہیں کہ ملک میں مجموعی طور پر ساڑھے 13 کروڑ ایکٹیو سمز تھیں جن میں سے 3 کروڑ 80 لاکھ سمز کی موجودہ مہم سے پہلے ہی بائیو میٹرک تصدیق ہوچکی تھی، جبکہ جاری مہم کے ذریعے اب تک ساڑھے 7کروڑ سمز کی بائیو میٹرک تصدیق ہوچکی ہے۔ اس لحاظ سے مجموعی طور پر 11 کروڑ 30 لاکھ سموں کی بائیو میٹرک تصدیق ہوچکی ہے۔

ڈاکٹر اسمعیٰل شاہ کا کہنا ہے کہ 12 اپریل کے بعد بائیو میٹرک سے غیر تصدیق شدہ سمیں بند کر دی جائیں گی۔ تاہم، وہ سمیں 6 ماہ تک کسی دوسرے صارف کو جاری نہیں کی جائیں گی اور اگر کوئی صارف بائیو میٹرک تصدیق کرانا چاہے گا تو کروا کر اسے ایکٹیو کراسکے گا۔

ڈاکٹر اسمعیٰل شاہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف حکومتی کوششوں میں مدد فراہم کرنے کی غرض سے سموں کی تصدیق کیلئے ٹیلی کام انڈسٹری نے 15 ہزار بائیو میٹرک مشینیں نصب کی ہوئی ہیں جبکہ ملک کے پانچوں ٹیلی کام آپریٹرز کی جانب سے نصب کی جانے والی 65 ہزار بائیو میٹرک مشینیں اس کے علاوہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG