رسائی کے لنکس

ڈیلر اسلحہ فروخت كرنے کے فوری بعد اسی ہتھیار سے 2 آزمائشی فائر کرے گا اور اس کی گولی كے خول فورنزک لیب میں جمع کرائے گا۔

ٹارگٹ کلنگ، اسٹریٹ کرائم، ڈکیتی اور فائرنگ کے واقعات پاکستان اور خاص طور پر کراچی میں بہت عام ہیں ۔ ان واقعات میں پچھلے کئی برسوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ۔ پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ ان سب کے پیچھے ایک ہی وجہ ہے ۔ اور وہ ہے غیر قانونی اسلحہ ۔۔جو چند سو روپوں میں آسانی سے مل جاتا ہے۔

غیر قانونی اور ناجائز اسلحہ کے ساتھ ساتھ لائسنس یافتہ اسلحے کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لئے بدھ کو صوبائی اسمبلی میں ’سندھ آرمز ( ترمیمی ) بل 2016 کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی۔

بل کے تحت اسلحہ کی خریداری کے لیے بیلسٹ دستخط لازمی ہوں گے۔

اسلحہ ڈیلر ہتھیار فروخت کرنے سے پہلے بائیو میٹرک سسٹم کے تحت نادرہ کے ریکارڈ سے خریدار کا ڈیٹا میچ کرے گا۔

کمپیوٹر آئزڈ شناختی کارڈ کے بغیر اسلحہ نہیں خریدا جاسکے گا۔

ڈیلر اسلحہ فروخت كرنے کے فوری بعد اسی ہتھیار سے 2 آزمائشی فائر کرے گا اور اس کی گولی كے خول فورنزک لیب میں جمع کرائے گا۔

بل کے مطابق لیب کے قیام کا مقصد ٹارگٹ كلنگ اور دہشت گردی كکے مقدمات کی بہتر انداز میں تفتیش ہوسکے گی ۔

خریدار كو ڈیلر کے پاس اپنی تمام ضروری دستاویزات جمع كرانا ہوں گی جبکہ ہتھیار کی رجسٹریشن كرانا بھی لازمی ہو گا۔

جدید کلاشنکوف۔۔ اسمارٹ فون سے بھی سستی
پاکستان میں ناجائز اسلحے کی بھرمار اور اس کی آسانی سے خرید و فروخت کے حوالے سے گزشتہ جولائی میں فرانسیسی خبررساں ادارے نے ایک جائزہ رپورٹ جاری کی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستان میں کلاشنکوف اسمارٹ فون سے بھی سستی اور آسانی سے دستیاب ہے۔

درہ آدم خیل کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ درہ آدم خیل پاکستان میں ہتھیاروں کی سب سے بڑی بلیک مارکیٹ ہے۔ یہاں جگہ جگہ غیر قانونی اسلحہ بنایا اور بیچا جاتا ہے اور اسکریپ سے ایسی کلاشنکوف تیار کی جاتی ہیں جو اسمارٹ فون سے بھی سستی ہوتی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ دنیا کی مشہور مشین گن کی ہوبہو نقل بھی درے میں برائے فروخت ہے ۔ پہلے یہ کاروبار بہت عروج پر تھا تاہم اب سیکورٹی اداروں کی سخت نگرانی اور کوششوں کے سبب اس ناجائز اور غیر قانونی کاروبار میں کمی آرہی ہے۔

اس طرح کے انکشافات اور دہشت گردی و جرائم میں اضافے کو روکنے کے لئے سندھ آرمز ( ترمیمی ) بل 2016 کی منظوری ممکن ہوسکی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بل چاروں صوبوں میں پاس ہونے چاہئیں تاکہ ہتھیاروں پر سخت کنٹرول نافذ کیا جاسکے ۔

XS
SM
MD
LG