رسائی کے لنکس

سندھ کے شہر ٹھٹھہ کے علاقے کھارو چھان اور کیٹی بندر کی ساحلی پٹی پر موجود دیہاتوں کا سب سے بڑا مسئلہ 'پینے کے صاف پانی' کی عدم دستیابی ہے

کراچی: ​صوبہٴسندھ کے شہر کراچی میں ان دنوں 'پانی کی قلت' کی خبریں عام ہیں، جہاں ایک جانب کراچی کےشہری پانی کی قلت کا رونا روتے دکھائی دے رہے ہیں، وہیں صوبہٴسندھ ہی کے ساحلی پٹیوں پر بسنے والے دیہاتوں کا حال بھی کچھ جدا نہیں۔

سندھ کے شہر ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی پر واقع کھاروچھان کے 'ابان رونجھو' گاؤں کی رہائشی، آسیہ خاتون ان دنوں پینے کے صاف پانی کیلئے پریشان ہے۔ 65 سالہ آسیہ خاتون کہتی ہے اسے اگر زندگی میں کسی چیز کا مسئلہ ہے تو وہ ہے اسکے اور اسکے گھر والوں کیلئے پینے کے صاف پانی کا۔ وہ کہتی ہے کہ آس پاس علاقے میں پانی تو موجود ہے مگر پینے کے لائق نہیں ہے۔

آسیہ کی طرح ابان رونجھو کے تمام رہائشیوں کا سب سے بڑا بنیادی مسئلہ 'پینے کا صاف پانی' کا نا ہونا ہے۔ آسیہ بتاتی ہے کہ پچھلے 25 سالوں سے اس گاؤں میں آباد ہیں۔ اس سے قبل آگے ہی ایک گاؤں میں آباد تھے وہاں پانی کی قلت کے باعث اِس گاؤں میں منتقل ہونا پڑا۔ آبان رونجھو بھی سندھ کے مضافاتی علاقوں میں شامل ان دیگر گاؤں کی طرح ہے جو ساحلی پٹی کے قریب آباد مکین دوردراز علاقوں سے پینے کا صاف پانی خریدکر پینے پر مجبور ہیں۔

گاؤں کے مکینوں کو صرف پینے کا پانی ہی نہیں بلکہ یہاں کاشتکاری کے مسائل بھی شامل ہیں، جبکہ بجلی بھی دستیاب نہں ہے۔ ابان رونجھو کی اس عمر رسیدہ خاتون نے صرف اپنا مسئلہ بتاکر کہا کہ ہماری یہ آواز حکام بالا تک پہنچا دی جائے؛ جبکہ آسیہ نے سندھ کے دیہات میں بسنے والی روایتی خواتین کی طرح اپنی تصویر بنوانے سے بھی صاف انکار کر دیا۔

آسیہ ہی کے گاوں کے ایک اور باسی نے بتایا کہ ’گاؤں کا زیادہ تر طبقہ ماہی گیری کے شعبے سے منسلک ہے‘۔

انھوں نے بتایا کہ ’ساحلی علاقے کا پانی دن بدن گدلا ہوتا جا رہا ہے، جسکے باعث یہاں مچھلی بھی کم ہو رہی ہے، جبکہ یہاں سے منتقل نہیں ہوسکتے یہاں سے کہاں جائینگے‘۔ یہاں مچھلی بھی مر رہی ہے ماہی گیری کا پیشہ بھی نقصان میں ہے‘۔

گاؤں کے مکینوں نےمزید بتایا کہ ’برسوں پہلے کھاروچھان کے دیہات ابان رونجھو کی زیادہ تر آبادی 'کاشتکاری' سے منسلک تھی جو اب 'ماہی گیری' کی طرف منتقل ہوگئی یہاں پینے کا پانی نہیں ہے نا ہی فصل اگانےکیلئے تازہ پانی "۔

ٹھٹھہ کے مختلف علاقوں میں غیرسرکاری سطح پر کام کرنےوالے این جی او کے عہدیدارنے طارق نے وی او اے کو بتایا کہ "یہاں مختلف گاوں میں چار ماہ میٹھا پانی موجود ہوتا ہے جسکو 5 سے 6 ماہ استعمال کیاجاسکتاہے سال کے دو ماہ ان کو بالکل پانی نہیں ملتا ہے جبکہ یہاں کنویں کھودنے پر بھی کھارا پانی ہی ملتا ہے بہت سے کنویں تک سوکھ گئے ہیں"۔

انھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں مزید بتایا کہ ’صاف پانی کا نا ہونا موسمیاتی تبدیلی کے باعث سندھ بھر میں آنےوالے 2010 ءکی بارشوں اور سیلاب نے شہر بھر کے نکاسی آب کا نظام تباہ ہوگیا، جس سے یہاں کے ساحلی علاقے کے پانی گدلا ہوتا گیا۔

سندھ کے مختلف شہروں میں پانی کے مسائل پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ، ڈاکٹر سونو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہتے ہیں کہ پینے کے پانی کا مسئلہ سندھ کے صرف ٹھٹھہ شہر کے دیہاتوں کا نہیں، بلکہ ہر دیہات کا ہے۔ ملک بھر کے دیگر صوبوں میں سندھ ایک واحد صوبہ ہے جس کا 70 فیصد زمینی پانی کڑوا اور پینے کے قابل نہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ سندھ کے دیگر دیہاتوں کی طرح شہر ٹھٹھہ کے مضافاتی علاقوں میں بھی بڑا مسئلہ پینے کے پانی کا ہے، جہاں دریا کا پانی پہنچتا ہے نا ہی ضلعی سطح پر کام کرنےوالے حکومتی افسران کی کوئی رسائی ہے۔ وہاں نا حکومت کے افسران پہنچتے نا ہی دیہات کے رہنے والے افراد کی ان ذمہ داران تک کوئی شنوائی ہے‘۔

وہاں کے لوگ آج بھی عرصہ دراز سے دوردراز علاقوں سے لاکر پانی پینے پر مجور ہیں، کیونکہ اکثر مضافاتی علاقوں میں ساحلی علاقوں میں پانی تو موجود ہے مگر پینے کا نہیں ہے، اس پانی سے اکثر دیگر بیماریاں جنم لےسکتی ہیں۔

غیرسرکاری سطح پر کام کرنےوالی تنظیموں کے مطابق، الیکشن کے دوران سندھ کے دیہاتوں سے ایک بڑا حصہ ووٹ حاصل کرنے والی موجودہ سندھ حکومت دیہاتوں کے مسائل کی جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG