رسائی کے لنکس

نمائش میں تقریباً91 تاریخی مقامات کی نادر تصاویر کی نمائش ہوئی، جن میں ٹھٹھہ، مکلی، تھر پار کر، دادو، جام شورو، بھنبھور، خیرپور، کوٹ ڈیجی، لاڑکانہ، مورو، سانگھڑ، حیدرآباد اور کراچی شامل ہیں

سندھ صدیوں پرانی سرزمین ہونے کے ساتھ ساتھ قیمتی آثار قدیمہ اور ایک سے بڑھ کر ایک تاریخی عمارات، قبرستانوں اور گنبدوں کا مسکن ہے۔ اسی لئے یہ عظیم ثقافتی ورثے کی سرزمین بھی کہلاتی ہے۔

پچھلے تین دنوں تک کراچی کے فیرئیر ہال نے اسی ورثے کی قیمتی تصاویر کو اپنے سینے میں سجائے رکھا۔ ثقافت اور تاریخ کے دلدادہ افراد کے پاس ان تصاویر کو دیکھنے کا یہ غیر معمولی موقع تھا۔

محکمہٴثقافت سندھ کی جانب سے ہونے والی اس نمائش کا نام ’سندھ کا ثقافتی ورثہ: ایک تصویری سفر‘ رکھا گیا تھا، جس میں تقریباً91تاریخی مقامات کی نادر تصاویرکی نمائش ہوئی جن میں ٹھٹھہ، مکلی، تھرپارکر، دادو، جام شورو، بھنبھور، خیرپور، کوٹ ڈیجی، لاڑکانہ، مورو، سانگھڑ، حیدرآباد اور کراچی شامل ہیں۔

نمائش کا افتتاح سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے منگل کو کیا تھا، جبکہ نمائش میں متعدد غیر ملکی وفود نے بھی دلچسپی لی۔ ان وفود کا تعلق جرمنی، روس اور بھارت سے تھا۔ نمائش کو اہم سیاسی اور غیر سرکاری ملکی شخصیات نے بھی بہت شوق سے دیکھا ۔ ان شخصیات میں گندھارا آرٹ اینڈ کلچر ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر پارک کیو سون، سابق صدر آصف علی زرداری کی والدہ زرین زرداری، سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ، وزیراعلیٰ سندھ کی خصوصی معاون برائے ثقافت شرمیلا فاروقی شامل تھیں۔

نمائش کے روح رواں سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ تھے۔

محکمہ ثقافت سندھ کی کنزرویشن آفیسر، نسرین جلبانی نے وائس آف امریکہ کے نمائندے کو نمائش سے متعلق تمام تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ’سندھ میں 129تاریخی مقامات، عمارات اور قیمتی آثار قدیمہ ہیں۔ لیکن، ان میں سے صرف 91 کی تصاویر کو نمائش کے لئے پیش کیا گیا۔‘
XS
SM
MD
LG