رسائی کے لنکس

صوبہٴسندھ میں پیر کا دن جنوری میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اہم رہا۔ حکومت کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں کے لئے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جبکہ بلدیاتی نظام میں ترامیم کا بھی فیصلہ کیا گیا

کراچی ۔۔۔۔ صوبہ سندھ میں پیر سے بلدیاتی انتخابات کے لئے نئی حلقہ بندیوں اور بلدیاتی نظام میں ترامیم کے حوالے سے ہلچل شروع ہوگئی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے پیر کو نئی حلقہ بندیوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جبکہ بلدیاتی نظام میں ترامیم کا فیصلہ بھی کرلیا گیا۔

نئی حلقہ بندیوں کے لئے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں 10میونسپل کارپوریشنز، 23 ڈسٹرکٹ کونسلز اور 40 میونسپل کمیٹیاں ہوں گی۔ ٹاوٴن کمیٹیوں کی تعداد نوٹیفکیشن میں139 اور یونین کمیٹیوں کی کل تعداد 434 بتائی گئی ہے۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق، سندھ میں یونین کونسلوں کی تعداد ایک ہزار چونسٹھ ہوگی۔کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں یونین کمیٹیوں کی تعداد 267 ہوگی، جس میں سے ضلع غربی میں 55، جنوبی میں45، شرقی میں 66، وسطی میں 61 اور ملیر میں 41 یونین کمیٹیاں ہوں گی۔

بدیانی نظام میں ترامیم

مجوزہ بلدیاتی نظام میں ترامیم کے حوالے سے مقامی میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ اب یونین کمیٹی اور یونین کونسل کے لئے امیدوار پینل بنا کر الیکشن لڑ سکیں گے اور کامیابی کے تین روز کے اندر کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکیں گے۔

ترامیم کے مطابق انفرادی حیثیت کے بجائے پینل کو انتخابی نشان الاٹ کیا جائے گا، جبکہ یہ امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ بلدیاتی نظام میں ترمیم کے لئے گورنر سندھ آرڈی ننس بھی جاری کر سکتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG