رسائی کے لنکس

ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لئے فارنسیک اور مالیکیولر بائولوجی لیبارٹری قائم کرکے، صوبے میں جرائم پر قابو پانے اور عوام کو انصاف کی فراہمی کا ایک اور سنگ میل طے کر لیا گیا ہے: وزیر اعلیٰ سندھ

کراچی: ​پاکستان کے صوبہ سندھ میں ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے باقاعدہ ایک فارنسیک اور مالیکیولر بائولوجی لیبارٹری قائم ہوگئی ہے۔جمعرات کے روز، وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ کی جانب سے صوبے کی پہلی ڈی این اے لیبارٹیری کے باقاعدہ قیام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ کا میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ حکومت سندھ کی جانب سے ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لئے فارنسیک اور مالیکیولر بائولوجی لیبارٹری قائم کرکے صوبے میں جرائم پر قابو پانے اور عوام کو انصاف کی فراہمی کا ایک اور سنگ میل طے کرلیا ہے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ صوبے میں اس لیبارٹری کے قیام سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پیچیدہ کیسز حل کرنے میں معاونت سمیت صرف 72گھنٹوں میں ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ ملے گی۔ انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے انصاف کے حصول میں تیزی آئے گی۔

حکومتی سطح پر، پہلی بار ایک لیبارٹری قائم کی گئی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں، محکمہ صحت سندھ کے اسپیشل سیکریٹری نے بتایا کہ، ’اس سے قبل، جامشورو کی یونیورسٹی میں ایک ڈی این اے لیب بنائی گئی تھی، جسے حکومتی سطح پر لانے میں کچھ وقت درکار تھا کہ وہ حکومتی سطح پر کام کرسکے۔

جامشورو کی یونیورسٹی میں قائم ڈی این اے ٹیسٹنگ لیب کو اب باقاعدہ قوانین کے مطابق منظم کر دیا گیا ہے۔ اس کی مدد سے اب سندھ میں ہی ڈی این اے ٹیسٹ کئے جا سکیں گے؛ جو مختلف کیسز میں بھی ضرورت پڑنے پر ڈی این اے رپورٹس ثبوت کے طور پر بھی عدالتی سطح پر قابل قبول ہوں گی'۔

خالد شیخ کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر کے دیگر شہروں میں اکثر ایسے بڑے سانحات رونما ہوتے ہیں۔ ان حادثات کا شکار ہونے والے افراد کی اکثر مسخ شدہ لاشیں شناخت کے انتظار میں ایدھی اور دیگر فلاحی اداروں کے سردخانوں میں انتظار کیلئے رکھی جاتی ہیں۔ ڈی این اے لیب کے نمونے اب اسلام آباد لے جانے کی ضرورت نہیں سندھ میں ہی ڈی این سے ٹیسٹ کی سہولت دستیاب ہوگی'۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق صوبہ سندھ کی پہلی ڈی این اے فارنسیک اینڈ مالیکیولر بائیو لوجی لیبارٹری ٹیسٹ لیبارٹری سندھ کے ضلع جامشورو کی لیاقت یونورسٹی میں قائم کی گئی ہے جہاں سندھ بھر کے ڈی این اے ٹیسٹ کئےجائیں گے۔

لیبارٹری کے قیام سے حادثات میں جاں بحق ہونے والے افراد کی ڈی این اے کے ذریعے فوری شناخت کی جاسکے گی، اس سے قبل ڈی این اے کیلیے نمونے اسلام آباد کی ڈی این اے لیبارٹری بھجوائے جاتے تھے جو وقت طلب ہوتی تھی۔

ناصرف یہ بلکہ دیگر جرائم میں بھی ڈی این اے کا ٹیسٹ مختلف میڈیکو لیگل کیسز میں ضروری سمجھا جاتا ہے، جس میں بم دھماکوں کا نشانہ بننےوالے افراد آتشزدگی اور حادثات میں مسخ شدہ لاشوں، گمشدہ افراد کی تلاش، جنسی تشدد کے کیسز شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG