رسائی کے لنکس

سیلاب سے 50 لاکھ سے زائد پاکستانی متاثر


سیلاب سے 50 لاکھ سے زائد پاکستانی متاثر

سیلاب سے 50 لاکھ سے زائد پاکستانی متاثر

محکمہ موسمیات کی جانب سے آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کی پیشنگوئی کے بعد کئی علاقوں میں ایک بار پھر عوام کو خبردار رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے اور سرکاری و امدادی اداروں نے فوج اور رضاکاروں کے تعاون سے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ خطرہ صوبہ سندھ کے نشیبی علاقوں کوہے کیونکہ سیلابی ریلہ دریائے سندھ کے بند توڑتے ہوئے اطراف میں واقع سینکڑوں دیہات کو زیر آب لا سکتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ کا بدترین سیلاب ملک کے شمال مغربی اور وسطی حصوں میں تباہ کن نقوش چھوڑتے ہوئے جنوبی علاقوں میں داخل ہو گیا ہے جہاں مزید تباہی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس تباہ کن سلسلے کا آغاز دوہفتے قبل شروع ہوئی مون سون کی موسلادھار بارشوں سے ہوا تھا اور محتاط اندازوں کے مطابق اس سے اب تک 50 لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1,600 سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ نجی املاک کے ساتھ ساتھ سرکاری عمارتوں اور مواصلات کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کی پیشنگوئی کے بعد کئی علاقوں میں ایک بار پھر عوام کو خبردار رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے اور سرکاری و امدادی اداروں نے فوج اور رضاکاروں کے تعاون سے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ خطرہ صوبہ سندھ کے نشیبی علاقوں کوہے کیونکہ سیلابی ریلہ دریائے سندھ کے بند توڑتے ہوئے اطراف میں واقع سینکڑوں دیہات کو زیر آب لا سکتا ہے۔

سندھ

صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ مقامی حکومت نے ممکنہ نقصانات کا سامنا کرنے کے لیے ہر ممکن انتظامات کر رکھے ہیں لیکن اگر دریا کے بند ٹوٹنے کے واقعات پیش آتے ہیں توصورت حال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

امریکی شنوک ہیلی کاپٹر

امریکی شنوک ہیلی کاپٹر

جمعرات کو سکھر شہر کے قریب گدو بیراج کا دورہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے صحافیوں کو بتایا کہ کچے کے علاقے میں متاثرین کی تعداد لگ بھگ 15 لاکھ ہے ۔

قائم علی شاہ نے بتایا کہ صوبے کی حدود میں دریائے سندھ کی لمبائی 870 کلو میٹر ہے اور اتنے وسیع علاقے میں صورت حال کو سنبھا لنا ایک چیلنج ہے تاہم حکومت اس کو قبول کرتی ہے اور اس سلسلے میں تمام تر اقدامات کر رہی ہے۔ صوبائی حکومت نے اضلاع کے صدر مقامات اور تحصیل کی سطح پر اسکولوں کو خالی کرا لیا ہے تاکہ کسی ہنگامی صورت حال میں متاثرین کو وہاں پناہ دی جا سکے جب کہ متاثرہ علاقوں میں 750 خیمے تقسیم کیے جا چکے ہیں اور آنے والے دنوں میں 1,700 مزید خیمے فراہم کیے جائیں گے۔

پنجاب

صوبہ پنجاب میں سرکاری حکام کے مطابق سیلاب سے تقریباً 15 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور ہزاروں ایکڑپر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ صوبہ بھر میں 25 ہزار مکانات تباہ ہوگئے ہیں جب کہ 48 ہزار کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ خوش قسمتی سے آبادی کے حساب سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں سیلاب سے جانی نقصان کم ہوا ہے اور 50 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق آٹھ متاثرہ اضلاع میں 170 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں مجموعی طور پر 22 ہزار افراد کو رکھنے کی گنجائش ہے۔

خیبر پختون خواہ

ملک کا یہ شمال مغربی صوبہ جو گذشتہ چند سالوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے حالیہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہو اہے اور یہاں لگ بھگ 1,500 افراد ہلاک جب کہ 30 لاکھ متاثر ہوئے ہیں۔

صوبہ کے متعدد حصوں میں رواں ہفتے کے اوائل تک سیلابی پانی کھڑا تھا لیکن اب اس میں بتدریج کمی ہو رہی ہے البتہ جاری بارشوں اور بیشتر سڑکوں اور رابطہ پلوں کے تباہ ہو جانے کی وجہ سے امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں۔ سب سے زیادہ تباہی ضلع نوشہرہ میں ہوئی ہے۔

سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹنے کا خطرہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے لیکن اب تک کسی مقام پر ایسی صورت سامنے نہیں آئی ہے۔

امدادی کارروائیاں

جمعرات کو امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں نے سیلاب سے متاثرہ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں امدادی پروازوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان کے مطابق چار شنوک ہیلی کاپٹروں نے وادی سوات میں سیاحوں میں مقبول کالام کے علاقے میں پھنسے 800 افراد کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کرنے کے علاوہ متاثرین میں امدادی سامان بھی تقسیم کیا۔

سیلابی ریلوں میں سڑکوں اور پلوں کے بہہ جانے سے اس علاقے کے مکینوں اور سیاحت کی غرض سے آنے والے لوگوں کے ساتھ پچھلے ایک ہفتے سے رابطہ منقطع ہے ۔

ملکی تاریخ کے بد ترین سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے بیرونی امداد کے اعلانات بھی کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اب تک 18 لاکھ ڈالر کی امداد جاری کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ اقوام متحدہ کے سربراہ بان گی مون کے خصوصی نمائندے بھی امدادی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

امریکہ نے سیلاب زدگان کے لیے ایک کروڑ ڈالر کی امداد کے اعلان کے علاوہ موثر امدادی کارروائیوں کے لیے کشتیاں اور ہیلی کاپٹر بھی فراہم کیے ہیں جن کی مدد سے ناصرف متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے بلکہ زمینی راستے سے کٹے ہوئے علاقوں میں امدادی اشیاء کی ترسیل بھی کی جا رہی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے یقین دلایا ہے کہ پاکستان کو سیلاب زدگان کے لیے وسیع پیمانے پر امداد دی جائے گی اور یہ سلسلہ طویل المدتی ہوگا۔

امداد دینے والے فریقین نے پاکستانی حکام پر زور دیاہے کہ یہ امداد جلد از جلد متاثرین تک پہنچنی چاہیے البتہ متاثرہ علاقوں میں سیلاب زدگان حکومت کو موثر امدادی کارروائیاں نا کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جب کہ حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح پر ہر ممکن کوششیں کی جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین کو اشیاء خورونوش، پینے کے صاف پانی اور صحت کی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔

XS
SM
MD
LG