رسائی کے لنکس

ایم کیو ایم کا سندھ میں ’ایمرجنسی‘ کے نفاذ کا مطالبہ


بقول ایم کیو ایم، ’صوبائی حکومتوں کی غفلت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سانحہ پشاور اور شکارپور خودکش حملہ نااہلی کے سوا کچھ نہیں۔ اس لئے، سندھ میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کی جائے‘

متحدہ قومی موومنٹ نے صوبے میں ایمرجنسی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایم کیو ایم کے رکن صوبائی اسمبلی اظہار الحسن کی جانب سے پیر کو اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کے دوران سامنے آیا۔

اظہار الحسن نے ڈیڑھ ماہ کی مدت میں پہلے پشاور اور پھر شکارپور میں پیش آنے والے دہشت گردی کے دو بڑے واقعات کو صوبائی حکومتوں کی نااہلی سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’صوبائی حکومتوں کی غفلت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سانحہ پشاور اور شکارپور خودکش حملہ نااہلی کے سوا کچھ نہیں۔ اس لئے، سندھ میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کی جائے‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ان کے پارٹی سربراہ الطاف حسین نے صوبے میں بڑھتے طالبان کے اثر و رسوخ کے خطرے سے بہت پہلے آگاہ کر دیا تھا۔ لیکن، بقول اُن کے، ’اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اس غفلت کا انجام آج سب کے سامنے ہے‘۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’صوبے بھر میں ناصرف ایمرجنسی نافذ کرکے دہشت گردوں کے خلاف عسکری آپریشن کیا جائے، بلکہ ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے‘۔

دوسری طرف، صوبائی وزیراطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ ’ایمرجنسی کا مطالبہ داشمندی نہیں‘۔ بقول اُن کے، ’دہشت گردی پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ اس کے خاتمے کے لئے تمام جماعتیں متفق ہیں اور سب ایک ہی صفحے پر ہیں۔ اس سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی استعداد بڑھائی جارہی ہے‘۔

شرجیل میمن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’سانحہٴ شکارپور پر سیاست کرنا درست نہیں‘۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت پر ’غفلت کا الزام لگانا غلط ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ، ’صوبائی حکومت کو سکیورٹی فورسز کا تعاون حاصل ہے۔ تاہم، اگر ضرورت پڑی تو فوج کو بلایا جا سکتا ہے‘۔

XS
SM
MD
LG