رسائی کے لنکس

کراچی میں امن و امان کی روز بہ روز بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانے کے لئے حکومت سندھ نے شہر میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کا فیصلہ کیا ہے۔

کراچی میں امن و امان کی روز بہ روز بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانے کے لئے حکومت سندھ نے شہر میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کا فیصلہ کیا ہے۔

آپریشن کا فیصلہ جمعرات کی شام وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں سندھ کے تمام اضلاع سے اضافی پولیس کراچی طلب کرنے کے بھی احکامات جاری کئے گئے۔ فورس کو شہر کے حساس علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔

اجلاس میں صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن، انسپکٹر جنرل سندھ، زونل ڈی آئی جیز اور حساس اداروں کے صوبائی سربراہان نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے صحافیوں کو بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کراچی میں بحالی امن کی خاطر "بڑی سے بڑی کارروائی" کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ فوری طور پر شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر چوکیوں کی تعمیر کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ آپریشن میں کراچی پولیس اور رینجرز کے دستے بڑے پیمانے پر حصہ لیں گے۔

شرجیل میمن نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی ہے کہ اندرون سندھ کے تمام اضلاع سے اضافی پولیس فورس فوری طور پر کراچی بلا کر دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ یہ فورس جمعہ کو کراچی پہنچ کر اپنے فرائض کی ادائیگی شروع کردے گی۔

شرجیل میمن نے مزید کہا کہ جمعہ سے ہی دہشت گردوں اور دیگر قانون شکن عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر ٹارگٹڈ ایکشن شروع ہوجائے گا۔

اس سے قبل کراچی میں حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنماوٴں نے رضا ہارون کی قیادت میں وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کی اور شہر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ متحدہ کے ارکان اسمبلی نے جمعرات کو شہر میں بدامنی کے واقعات کے خلاف حزبِ اختلاف کی جماعتوں مسلم لیگ (نواز) اور جمعیت العلمائے اسلام کے ساتھ قومی اسمبلی کے اجلاس کا واک آوٹ بھی کیا تھا۔

کراچی میں صرف جنوری کے مہینے میں 200 سے زائد افراد کو ہدف بنا کر موت کی نیند سلادیا گیا ہے جبکہ سال کے پہلے مہینے میں شہر میں 7بم دھماکے بھی ہوئے۔

رواں ماہ فائرنگ، پر تشدد واقعات، کریکر اور بم حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سیاسی رہنما، مذہبی قائدین، سیکورٹی اہلکار، سیاسی کارکن اور عام شہری شامل ہیں۔
XS
SM
MD
LG