رسائی کے لنکس

نیا بلدیاتی نظام سندھ اسمبلی سے منظور


سندھ کی صوبائی اسمبلی (فائل فوٹو)

سندھ کی صوبائی اسمبلی (فائل فوٹو)

صوبائی اسمبلی میں اس موقع پر حزب مخالف اور بعض ناراض اتحادی جماعتوں کی طرف سے شدید مخالف دیکھنے میں آئی۔

حزب اختلاف اور بعض ناراض اتحادی جماعتوں کی شدید مخالفت کے باجود صوبائی اسمبلی نے سندھ میں لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012ء کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

پیر کو جب یہ آرڈیننس ایوان میں پیش کیا گیا تو مخالفین کی طرف سے شدید نعرے بازی کی گئی اور احتجاجاً بعض اراکین نے اس دستاویز کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ تاہم پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو ایوان میں عددی برتری حاصل ہونے کی وجہ سے یہ آرڈیننس منظور کرلیا گیا۔ 149 ارکان نے بل کے حق میں جب کہ 15 نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیراطلاعات شرجیل میمن نے بل پر اعتراضات کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا ’’صرف نامنظور نامنظور کرتے رہو گے تو مسئلے کی نشاندہی نہیں ہوسکے گی۔۔۔جسے اعتراض ہے وہ آکر بات کرسکتے ہیں، ترمیم کی گنجائش ہروقت ہوتی ہے۔‘‘

متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اسمبلی رضا ہارون نے بھی نئے بلدیاتی نظام کی حمایت کرنے کا بھرپور انداز میں دفاع کیا۔

’’اگر کسی کے ذہن میں سندھ کے عام آدمی کا فائدہ ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ کسی شق میں ترمیم کرنے سے آج بھی سندھ کے عام آدمی کو اس کے دروازے پر سہولتیں فراہم کرنے میں مدد ملے گی آسانی ملے گی تو اس پر غور کیا جاسکتا ہے۔‘‘

بل کے تحت سندھ میں ابتدائی طور پرصوبے کے پانچ اضلاع کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور میرپور میں نیا بلدیاتی نظام متعارف کرایا جارہا ہے اور ان شہروں کو میٹروپولیٹن کارپوریشن قرار دیا گیا ہے۔

ان کارپوریشنز کی منتخب کونسل کا سربراہ ڈپٹی میئر ہوگا اور کونسل کے ارکان کو متعلقہ شہر کے عوام ووٹ کے ذریعے منتخب کریں گے۔ صوبے کے دیگر شہروں میں نئے نظام کے تحت ضلعی کونسل قائم ہوں گی جن کے سربراہ چیئر مین کہلائے گا۔

آرڈیننس کے تحت صوبے میں موجود کمشنری نظام بھی جاری رہے گا۔ کمشنر ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر آمدنی، امن و امان اور دیگر انتظامی معاملات چلانے کے ذمہ دار ہوں گے جب کہ منتخب کونسلرز بلدیاتی اور میٹروپولیٹن کارپوریشنز کے معاملات سنبھالیں گے۔

نئے نظام میں کراچی کے پانچوں اضلاع برقرار رہیں گے کراچی کے اٹھارہ ٹاؤنز میونسپل حد بندی کے تحت کام کرتے رہیں گے۔

آرڈیننس کی مخالفت کرنے والے ارکان اسمبلی اور سندھ کی قوم پرست جماعتوں کا موقف ہے کہ پورے صوبے میں ایک نظام حکومت ہونا چاہیئے اور ان کا الزام ہے کہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012ء سندھ کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔

قوم پرست جماعتوں کی طرف سے پیر کو سندھ میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال پر صوبے کے بعض علاقوں میں جزوی طور پر معمولات زندگی متاثر ہوئے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG