رسائی کے لنکس

مجوزہ قانون کے تحت صرف عزیز و اقارب ہی ضرورت مند رشتہ داروں کو اپنے اعضاء عطیہ کر سکیں گے لیکن اخلاقی بنیاد پر بھی اعضاء عطیہ کرنے کی شق نئے قانون میں شامل ہے

ملک میں طبی ماہرین نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی سے انسانی اعضاء کی پیوندکاری سے متعلق مسودہ قانون کی متفقہ منظوری سے اعضاء کی غیر قانونی خرید و فروخت کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

پاکستان میں اعضاء کی غیر قانونی پیوندکاری کو روکنے کے لیے ڈاکٹروں کی کئی تنظیمیں اور مختلف سماجی حلقے طویل عرصے سے قانون سازی کا مطالبہ کر رہے تھے اور طویل جدو جہد کے بعد 2010ء میں مرکز کی سطح پر اس ضمن میں متفقہ قانون سازی کی گئی۔

لیکن اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد جب محکمہ صحت کی وزارت صوبوں کو سونپی گئی تو یہ لازم تھا کہ وہ بھی اس حوالے سے نئی قانون سازی کریں۔

اس تناظر میں رواں ہفتے سندھ کی اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک بل منظور کیا جس میں اعضاء کی خرید و فروخت کو روکنے سے متعلق موثر طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

مجوزہ قانون کے تحت صرف عزیز و اقارب ہی ضرورت مند رشتہ داروں کو اپنے اعضاء عطیہ کر سکیں گے لیکن اخلاقی بنیاد پر بھی اعضاء عطیہ کرنے کی شق نئے قانون میں شامل ہے تاہم اس کے لیے ایسا طریقہ کار وضع کیا گیا جس کے ذریعے اعضاء کی پیوند کاری میں کسی طرح بھی پیسے کی لین دین کی مکمل حوصلہ شکنی شامل ہے۔

ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوی ایشن کے سابق صدر پروفیسر ٹیپو سلطان نے سندھ اسمبلی سے انسانی اعضاء کی پیوندکاری کی منظوری پر وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’سندھ اسمبلی میں پاس ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ اس سلسلے میں ایک قدم اور آ گے بڑھے اور سندھ میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کوئی شخص بھی گردہ دے سکتا ہے یا گردہ لے سکتا ہے عطیے کے طور پر‘‘۔

چند سال قبل تک پاکستان کو انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوند کاری کے حوالے سے جانا جاتا تھا لیکن ناصرف عدالت عظمیٰ نے معاملے کا از خود نوٹس لیا بلکہ 2010ء میں مرکزی حکومت نے ایک موثر قانون سازی بھی کی تھی جس کے بعد صرف منظور شدہ بڑے اسپتالوں میں ہی اعضاء کی پیوندکاری کی اجازت دی گئی تھی اور غیر قانونی طور پر اعضاء کی خرید و فروخت کرنے والوں کے خلاف سزائیں بھی تجویز کی گئی تھیں جس کے بعد صورت حال میں نمایاں بہتری آئی۔
XS
SM
MD
LG