رسائی کے لنکس

بزرگ سیاست دان اور حروں کے روحانی پیشوا پیر پگارا کی میت آخری رسومات کے لیے ان کے آبائی علاقے پیر جو گوٹھ پہنچائی گئی جہاں انھیں جمعرات کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس سے قبل ان کا جسدِ خاکی جمعرات کی صبح لندن سے کراچی لایا گیا جہاں اسے سکھر اور پھر بذریعہ ہیلی کاپٹر پیر جو گوٹھ لے جایا گیا۔

نماز جنازہ میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سمیت اہم سیاسی رہنماؤں کے علاوہ پیر پگارا کے مریدین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پیر پگارا پھیپھڑوں کے عارضہ میں مبتلا تھے۔ انھیں گذشتہ سال 24 نومبر کو سانس کی تکلیف کے باعث کراچی کے ایک نجی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا تاہم ان کی طبعیت سنبھل نہ سکی۔ بعد میں رواں سال پانچ جنوری کو انھیں ایک خصوصی طیارے کے ذریعے علاج کے لیے لندن روانہ کیا گیا جہاں وہ منگل کی شب ایک مقامی اسپتال میں 83 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

پیر پگارا کی تدفین سے قبل حروں کے نئے روحانی پیشوا کی پیر صبغت اللہ راشدی کی دستار بندی کی گئی۔ وہ حروں آٹھویں پیر پگارا ہیں۔

سندھ کے ضلع خیر پور کے گاؤں پیر جو گوٹھ سے تعلق رکھنے والے شاہ مردان شاہ پیر پگارا سیاسی جماعت مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ بھی تھے اور طویل عرصہ تک پاکستان کی سیاست میں ان کا سرگرم کردار رہا۔

اد ھرجمعرات کو پیر پگارا کی تدفین کے موقع پر سندھ میں عام تعطیل ہے اور صوبائی حکومت نے سرکاری طو رپر تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔ سندھ کے متعدد شہروں میں سوگ کی فضا ہے۔ پیر پگارا کی جماعت مسلم لیگ فنکشنل نے ان کے انتقال پر چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جب کہ ایم کیو ایم نے بھی پیر پگارا کی تدفین تک سیاسی و تنظیمی سرگرمیاں معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG