رسائی کے لنکس

خسرہ کا زیادہ زور گھوٹکی، صالح بٹ اور سکھر کے علاقوں میں ہے، جہاں درجنوں بچے علاج کی غرض سے اسپتالوں میں لائے گئے ہیں۔


سندھ کے اندرونی علاقوں میں خسرہ کا مرض کم سن بچوں کی جانیں نگل رہاہے۔

تازہ رپورٹس کے مطابق ضلع کندھ کوٹ اور سنجھورو میں سات بچے اس موذی مرض میں مبتلا ہوکر جان کی بازی ہار گئے۔

گذشتہ دو ہفتوں کے دوران خسرہ کا بخار 71 بچوں کی جان لے چکاہے۔ جبکہ رواں ماہ کےدوران سندھ کے مختلف حصوں میں اس مرض سے ہلاک ہونےوالے بچوں کی تعداد 95 ہوگئی۔

کندھ کوٹ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

سندھ کے دیگر متاثرہ اضلاع میں گھوٹکی، صالح پٹ اور سکھر شامل ہیں۔ خسرہ کی بیماری سے متاثرہ درجنوں بچے علاج کیلئے مقامی اسپتالوں میں داخل ہیں ۔

اکثر والدین کو شکایت ہے کہ محکمہ سندھ کی جانب سے خسرہ سے متاثرہ بچو ں کو مناسب ادویات فراہم نہیں کی جارہی ہیں نہ ہی خسرہ سے بچاو کے ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ جس کے باعث ہلاکتوں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔
XS
SM
MD
LG