رسائی کے لنکس

پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کا پانی منصفانہ طور تقسیم کرنے کے لیے ’سندھ طاس‘ معاہدہ طے پایا تھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق طے پانے والے ’سندھ طاس‘ معاہدے کے بارے میں آپ نے پہلے سے سن تو رکھا ہو گا۔

اس کی اہمیت اور اس معاہدے کے چیدہ چیدہ نکات کچھ یہ ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کا پانی منصفانہ طور تقسیم کرنے کے لیے ’سندھ طاس‘ معاہدہ طے پایا تھا۔

اس معاہدے کے ضامن میں عالمی بینک بھی شامل ہے۔

معاہدے کے تحت بھارت کو پنجاب میں بہنے والے تین مشرقی دریاؤں بیاس، راوی اور ستلج کا زیادہ پانی ملے گا یعنی اُس کا ان دریاؤں پر کنٹرول زیادہ ہو گا۔

جب کہ جموں و کشمیر سے نکلنے والے مغربی دریاؤں چناب اور جہلم اور سندھ کا زیادہ پانی پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔

اگرچہ یہ معاہدہ برقرار ہے لیکن دونوں ملکوں ہی کے اس پر تحفظات رہے ہیں اور بعض اوقات اس معاہدے کو جاری رکھنے کے حوالے سے خدشات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں پیر کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت ایک اجلاس میں سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے سے متعلق معاملات پر غور کیا گیا لیکن اجلاس میں کوئی فیصلہ نا ہو سکا۔

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اس بارے میں کہا کہ ضروری نہیں کہ ہم ہر چیز پر ردعمل دیں ’’لیکن یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے، جس انداز میں وہاں (بھارت) سے بات کی جاتی ہے۔۔۔ دنیا میں کوئی جنگل کا قانون نہیں ہے۔‘‘

پاکستان کا الزام رہا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی جاری ہے اور بعض منصوبے پاکستان کو مستقبل میں اس کے حصے کے پانی سے محروم کر دیں گے۔

لیکن بھارت ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے اور بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ جن آبی منصوبوں پر وہ کام کر رہا ہے وہ دراصل پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ بہتے پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے ہیں جو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں۔

XS
SM
MD
LG