رسائی کے لنکس

بھارتی مداخلت کے ثبوت فراہم کر دیئے ہیں: سرتاج عزیز


Sirtaj Aziz press conference at New York
Sirtaj Aziz press conference at New York

پاکستانی مشیر قومی سلامتی نے بھارتی وزیر خارجہ کی اقوام متحدہ میں تقریر کو سفارتی آداب کے منافی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نے امن کے لیے ٹھوس تجاویز دی تھیں۔

پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے اور اس حوالے سے تین اہم دستاویزی ثبوت اقوام متحدہ میں ڈپٹی سیکٹری جنرل کو پیش کر دیے گئے ہیں۔

نیویارک کے پاکستان ’یو این مشن‘ میں پریس کانفرنس سے خطاب میں سرتاج عزیز نے بتایا کہ بھارت پاکستان پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ اس کے غیر ریاستی عناصر دہشت گردی میں ملوث ہیں جب کہ ہم نے اقوام متحدہ کو جو ثبوت پیش کیے ہیں اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بھارت کی ریاستی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ پیسہ اور ہتھیار دے کر پاکستان میں دہشت گردوں کی مدد کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے نائب کو تین ’ڈوزیئر‘ یعنی دستاویزات پیش کیں جن میں نہ صرف بلوچستان، کراچی اور فاٹا میں بھارتی مداخلت اور دہشت گردی کی معاونت کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں بلکہ فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے ثبوت بھی موجود ہیں۔

جناب سرتاج عزیز نے کہا کہ روس کے شہر اوفا میں دونوں وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات میں پاکستان نے قومی سلامتی کے مشیروں کی سطح کے جس اجلاس کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی، اس کا مقصد یہ تھا کہ (سرحد پار سے) دہشت گردی پر صرف بھارت کو نہیں پاکستان کو بھی تشویش ہے۔

پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی نے بھارتی وزیر خارجہ کی اقوام متحدہ میں تقریر کو سفارتی آداب کے منافی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نے امن کے لیے ٹھوس تجاویز دی تھیں، جس کو پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے لیکن بھارت نے اس کا منفی جواب دیا۔

بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے جمعرات کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے جو چار نکات پیش کیے ہیں ان کی ضرورت نہیں بلکہ اُن کے بقول کشیدگی ختم کرنے کے لیے "ایک ہی نقطہ کافی ہے: ’’دہشت گردی چھوڑئیے، اور بیٹھ کر بات کیجیے۔‘‘

سشما سوراج نے مزید کہا کہ اوفا میں نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان جو ملاقات ہوئی تھی اس میں دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں اور ڈائریکٹرز جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان بھی ملاقاتوں کی بات ہوئی تھی، جو اب تک نہیں ہوئی ہیں۔

یاد رہے کہ قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات سے قبل بھارت نے یہ کہا تھا کہ وہ کشمیر پر بات نہیں کرے گا، اسی بنا پر یہ مذاکرات نہیں ہوئے۔ سرتاج عزیر نے ایک سوال پر بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اب کوئی دو طرفہ رابطہ موجود نہیں کیونکہ بھارت صرف دہشت گردی پر بات کرنا چاہتا ہے دیگر تصفیہ طلب امور پر نہیں اور وہ بھی اپنی منشاء کے مطابق حل چاہتا ہے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے قونصلر بلال احمد کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیر پر اپنے "غیر قانونی تسلط" کے الزام کو مسترد کرنا تاریخ کا مذاق اڑانے کے برابر ہے۔"

ان کے بقول اگر بھارت "بین الاقوامی قوانین کا احترام اور اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتا تو وہ ( کشمیر) میں اپنی دہشت کی حکومت کو ختم کرتا، وہاں سے اپنے فوجی واپس بلاتا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے دیتا۔"

XS
SM
MD
LG