رسائی کے لنکس

بیس برس میں ہلاک ہونے والے مہاجرین کی تعداد 60000 ہے: رپورٹ


فائل

فائل

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دو برس کے دوران معلوم ہلاکتوں کی اکثریت بحیرہٴ روم میں واقع ہوئیں۔ مہاجرین کی بین الاقوامی تنظیم کے اندازوں کے مطابق، سنہ 2015 میں دنیا بھر میں 5400 مہاجرین ہلاک یا لاپتا ہوئے۔ عراق، افغانستان اور شام سے آنے والے افراد کی تعداد میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فور مائگریشن (آئی او ایم) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ دو عشروں کے دوران، آبی اور بَری راستوں سے سفر کرنے والے کم از کم 60000 مہاجرین ہلاک یا لاپتا ہوئے۔

ادارے نے کہا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی، چونکہ متعدد لاشیں نہیں ملتیں، نا ہی اُن کی شناخت ہو پاتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دو برس کے دوران معلوم ہلاکتوں کی اکثریت بحیرہٴ روم میں واقع ہوئیں۔

مہاجرین کی بین الاقوامی تنظیم کے اندازوں کے مطابق، سنہ 2015 میں دنیا بھر میں 5400 مہاجرین ہلاک یا لاپتا ہوئے۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق، اِسی سال دنیا بھر میں 3400 سے زیادہ مہاجرین فوت ہوئے۔ مہاجرین سے متعلق ’آئی او ایم‘ کے عالمی اعداد کے مرکز کے سربراہ، فرینک لِزکو نے کہا ہے کہ اِن میں سے 80 فی صد سے زیادہ ہلاکتیں اُس وقت واقع ہوئیں جب لوگوں نے سمندر کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کی۔

بقول اُن کے، ’’وسطی بحیرہٴ روم کے راستے سفر کے دوران اموات کی شرح، اندازاً 23 افراد میں سے ایک ہے‘‘۔

اُنھوں نے بتایا کہ اِس سال وسطی بحیرہٴ روم پار کرنے کی کوشش کے دوران 23 میں سے ایک مہاجر ہلاک ہوا، یا پھر لاپتا ہوا، جو پریشان کُن اعداد ہیں‘‘۔

ترکی اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والا سمجھوتا، جِس کا مقصد یورپ آنے کے خواہش مند پناہ گزینوں کو قانونی راستے اختیار کرنے کی ترجیح کو فروغ دینا ہے۔

سفر کرنے والے مہاجرین کی بڑی تعداد مشرقی بحیرہ ٴروم کے ترکی سے یونان کے روٹ پر پھنسی رہتی ہے۔ اس لیے زیادہ تر مہاجرین اب لیبیا سے اٹلی کا سمندر کا خطرناک راستہ اپناتے ہیں۔

لِزکو نے کہا ہے کہ راستے پر موت کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔ لیکن، بحیرہٴ روم پار کرنے والے افراد کی اصل تعداد اتنی نہیں بڑھی جتنا خوف تھا۔

اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ عراق، افغانستان اور شام سے آنے والے افراد کی تعداد میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔

بقول اُن کے، ’’ڈر اس بات کا رہا ہے کہ مشرقی بحیرہٴ روم کا راستہ بند ہونے کے نتیجے میں، وسطی بحیرہٴ روم کے راستے سے مہاجرین کے سفر میں اضافہ آئے گا۔ لیکن، ایسا لگتا ہے کہ اس راستے پر ابھی تک افریقی صحرائے اعظم کے ملکوں سے آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد زیادہ ہے‘‘۔

لِزکو نے کہا کہ اِن میں سے، تقریباً 10 فی صد نائجیریا سے، جب کہ مزید 10 فی صد کا تعلق اریٹریا سے ہے، باقی تمام مہاجرین مغربی اور مشرقی افریقہ سے آتے ہیں۔

اُنھوں نے توجہ دلائی کہ جنوب مشرقی ایشیا میں پناہ گزینوں کی ہلاکت کی شرح اتنی زیادہ ہے جتنی بحیرہٴ روم میں ہے، حالانکہ علاقے میں سمندر پار کرنے والے افراد کی تعداد کم ہے۔

XS
SM
MD
LG